خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 104 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 104

104 اللہ تعالی ان آیات میں جو میں نے ابھی پڑھی ہیں۔فرماتا ہے۔قالت الا عراب امنا کچھ عربوں میں سے ایسے لوگ ہیں کچھ قبائل کے لوگ ہیں جو کہتے ہیں ہم ایمان لائے فی الواقعہ ظاہر میں وہ ایمان لائے۔اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں سے اس لئے علیحدہ ہو گئے کہ وہ مسلمان نہ تھے۔کئی باتوں میں اسلام کا رنگ ان میں پایا گیا۔وہ نمازیں پڑھتے، روزے رکھتے، زکوۃ دیتے تھے۔گو رسول کریم کے بعد انہوں نے زکوۃ دینے اور باجماعت نماز پڑھنے سے انکار کر دیا تھا۔مگر رسول کریم ﷺ کے وقت سب اعمال بجالاتے تھے۔باوجود اس کے خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔قل لم تو منوا اے محمد الا ان سے کہدے تم ہر گز ایمان نہیں لائے کیونکہ ایمان لانے کے لئے صرف منہ سے کہہ دینا کافی نہیں ہے۔یہ ان لوگوں کو کہا گیا ہے۔جو نمازیں پڑھنے والے زکوۃ دینے والے۔رسول کریم ایتا کی اطاعت کا دم بھرنے والے۔اسلام لانے کی وجہ سے اپنے رشتہ داروں سے تعلق قطع کرنے والے تھے۔پھر کیوں ان کے متعلق یہ فرمایا۔ظاہری احکام تو انہوں نے ماننے شروع کر دیئے تھے۔اگر نماز پڑھنے سے کوئی مومن ہو سکتا ہے۔تو وہ نمازیں پڑھتے تھے۔اگر روزہ رکھنے سے کوئی مومن ہو سکتا ہے۔تو وہ روزے بھی رکھتے تھے۔اگر حج کرنے سے کوئی مومن ہو سکتا ہے۔تو وہ حج کرنے کے لئے بھی تیار تھے اور کرتے تھے۔اگر زکوۃ دینے سے کوئی مومن ہو سکتا ہے تو وہ یہ بھی دیتے تھے پھر وہ کیا چیز تھی جس کے نہ ہونے کی وجہ سے خدا تعالیٰ فرماتا ہے یہ ایمان نہیں لائے بلکہ یہ کہیں ولکن قولوا اسلمنا ہم نے بات مان لی ہے۔اب کوئی کہے یہ عجیب بات ہے۔ایمان لانے اور مان لینے میں کیا فرق ہے۔اللہ تعالیٰ نے کہا رسول کریم کے ذریعہ کہ نمازیں پڑھو۔انہوں نے کہا بہت اچھا پڑھتے ہیں۔رسول کریم نے کہا اپنے مال سے زکوۃ دیا کرو۔کسی مال پر چالیسواں حصہ اور کسی پر دسواں حصہ انہوں نے کہا یہ بھی منظور ہے، اسی طرح جہاد کے متعلق جب حکم دیا گیا۔اس کی بھی انہوں نے تعمیل کی۔کئی لڑائیوں میں شامل ہوئے۔ورثہ کے متعلق جو احکام دیئے گئے ان کو بھی انہوں نے مانا۔مگر باوجود اس کے کہ وہ نمازیں پڑھتے روزے رکھتے، زکوۃ دیتے اور دیگر تمام احکام مانتے تھے پھر ان کے متعلق کہا گیا ہے۔قل لم تومنوا ولكن قولوا اسلمنا تم یہ کہو ہم مسلمان ہو گئے۔مگر ایمان کا نام نہ لو۔اب سوال ہوتا ہے کہ وہ کونسی چیز تھی۔جو ان سے رہ گئی تھی۔اور کس وجہ سے خدا تعالیٰ نے کہا کہ یہ نہ کہو ایمان لائے۔بلکہ یہاں تک فرماتا ہے۔ولما يدخل الایمان فی قلوبکم کہ ایمان تو ال