خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 106 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 106

106 کہ اس کا ادنی درجہ رکھنے والا بھی ایسا مضبوط ہو کہ اگر اسے آگ میں ڈالا جائے تب بھی اسلام اور اپنے اعمال کو نہیں چھوڑتا۔اسے ایسا وثوق اور ایسا اثبات کا مقام حاصل ہوتا ہے کہ خواہ کچھ ہو وہ اپنی جگہ سے نہیں بہتا وہ پہاڑ کی چٹان کی طرح ہوتا ہے۔جس سے سمندر کی لہریں ٹکرا کر خود ہی پیچھے ہٹ جاتی ہے۔اس آیت میں اعراب کے متعلق پیش گوئی تھی کہ وہ رسول کریم ﷺ کی وفات کے بعد ان اعمال کو چھوڑ دیں گے جو اب کرتے ہیں۔اس لئے خدا تعالیٰ کہتا ہے۔تمہارا حق نہیں کہ تم کہو ہم مومن ہیں۔تمہارے اندر ایمان نہیں اور اس کا یہ ثبوت ہو گا کہ تو ٹھو کر کھاؤ گے۔وہ زمانہ آنیوالا ہے۔جب تمہارے اعمال میں کمی آجائے گی۔فرمایا یہ مومن کی شان نہیں ہے۔بلکہ اس کی شان یہ ہے کہ وہ کبھی اعمال میں تھکتا نہیں بلکہ ترقی کرتا جاتا ہے۔پس تم مومن نہیں ہو۔ہاں اپنے آپ کو مسلمان کہہ لو۔کیونکہ مومن کا قدم کبھی پیچھے نہیں ہوتا اور حقیقی مومن وہی ہوتا ہے۔جو اپنے اعمال میں ثبات اور استقلال رکھتا ہو۔کیونکہ ایمان کے معنی ہیں کہ انسان نے برکت کو حاصل کر لیا۔اور امن میں ہو گیا۔لیکن جو امن میں نہیں آتا بلکہ خطرہ میں رہتا ہے وہ مومن کہاں ہو سکتا ہے۔امن باللہ کے معنی ہیں کہ اللہ کے ذریعہ انسان امن میں آچکا ہے۔اسے تنزل کا خطرہ نہیں رہا۔جس انسان کو یہ مقام حاصل نہیں وہ اگر ظاہری فرمانبرداری کرتا ہے۔تو مسلم کہلا سکتا ہے۔اور اگر اس کی ظاہری اطاعت میں بھی نقص ہے تو پھر یہ بھی نہیں کہلا سکتا۔خدا تعالی فرماتا ہے۔ان اللہ غفور رحیم یہ کس طرح ممکن ہے کہ ایک انسان سچے دل سے خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلق پیدا بھی کرے۔اور پھر خدا اس کا انجام بخیر نہ کرے۔اور اس کی کمزوریوں اور نقصوں کو ظاہر ہونے دے۔کیا یہ ممکن ہے کہ بچہ ماں کی گود میں ہو۔اور کے سردی لگ رہی ہے۔اگر بچہ ماں کے لحاف میں ہے تو سردی اسے کس طرح لگ سکتی ہے۔خدا تعالیٰ غفور ہے اور غفر کے معنی ہیں چادر اڑھا دینا پس جو خدا کی گود میں اس کی چادر کے نیچے چلا گیا وہ کس طرح ننگا ہو سکتا ہے اور اگر ننگا ہے تو معلوم ہوا کہ وہ غفور کی گود میں نہیں ہے۔پھر وہ رحیم ہے اور رحیم کے معنی ہیں۔بار بار رحم کرنے والا۔اگر کوئی ارتداد کی طرف مائل ہو جاتا ہے یا اس کے اعمال میں کمزوری اور کو تاہی واقع ہو جاتی ہے تو اس پر رحم کہاں ہوا۔اس میں تو کمی آگئی۔اگر اس کا سچا تعلق اس سے ہوتا جو رحیم ہے تو بار بار رحیمیت کا جلوہ اس پر ہوتا۔تو فرمایا۔ان اللہ غفور رحیم خدا تو اپنے بندوں کی کمزوریوں کو ڈھانپنے والا اور ان پر بار بار رحم کرنے والا ہے جس کا اس کے ساتھ حقیقی تعلق ہو جاتا