خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 181 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 181

181 ہی جانتا ہے۔قلبی حالت ہمیشہ انسان کی نظروں سے پوشیدہ رہتی ہے۔اور انسان مطلقاً اس بات کو نہیں جان سکتا کہ کسی کے دل میں کس حد تک ایمان ہے۔انسان جب بھی ایسا اندازہ لگائے گا۔وہ کسی کے اعمال سے ہی لگائے گا۔جو نظروں کے سامنے ہوتے ہیں۔وہ اس کے عمدہ اخلاق کو دیکھ کر کے گا کہ یہ ایماندار آدمی ہے۔وہ اس کے معاملات کی صفائی دیکھ کر کہے گا کہ اس کا قلبی ایمان اچھا ہے۔لیکن اگر اس کے اخلاق عمدہ نہیں اور اس کے معاملات میں صفائی نہیں تو کوئی شخص نہیں جو (باوجود اس کے ایمان کے جو کہ ایک قلبی کیفیت ہے) اس کے متعلق عمدہ رائے ظاہر کر سکے۔پس اخلاق اور معاملات کی صفائی ہی ایک شخص کے قلب کا پتہ بتاتے ہیں کہ وہ کیسا ہے۔اس لئے یہ نہایت ہی ضروری ہے کہ اخلاق کو سنوارا جائے۔اور معاملات میں صفائی پیدا کی جائے۔اس بات کو سوچنا چاہئے کہ اگر کوئی شخص جو اس بات کا دعوی کرتا ہے کہ میرے اندر ایمان ہے اور اس کے اخلاق اور معاملات اچھے ہیں لیکن وہ اپنے ایمان کو واقعات کے ساتھ ثابت کرنا چاہے اور لاکھ کہے کہ مجھ میں ایمان ہے اور اس پر وہ ایک نہیں دو نہیں بیسیوں قسمیں بھی کھا جائے۔تو کیا کوئی شخص محض اس کی قسموں کی بناء پر اس کے کہنے کے مطابق مان لے گا؟ وہ ہر گز نہیں مانے گا کیونکہ وہ اس کی ان باتوں کو دیکھ رہا ہوتا ہے جن سے ایمان کی شناخت ہو سکتی ہے اور جن سے ایک آدمی اندازہ لگا سکتا ہے کہ اس کے اندر ایمان ہے اور کس حد تک ہے۔جب لوگ ایک شخص پر اعتبار نہیں کرتے تو وہ قسموں پر قسمیں کھانا شروع کر دیتا ہے کہ خدا کی قسم میں ایسا دیانتدار ہوں۔میں ایسا ایماندار ہوں۔مگر اس کی ایسی قسموں پر بھی لوگ اعتبار نہیں کرتے کیونکہ وہ اس کی روزانہ زندگی میں یہ بات دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ اس کے اخلاق اچھے نہیں اور اس کے معاملات میں صفائی نہیں۔بے شک خدا کی قسم بہت بڑی چیز ہے۔بے شک بعض جھوٹی قسموں پر عذاب بھی آتے ہیں لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ صرف قسموں سے کسی کے ایمان پر یقین بھی پیدا نہیں ہو جاتا مگر ہمارے ملک میں اس کا احساس ہی نہیں رہا کہ بجائے قسمیں کھا کر یقین کرانے کے اپنے اخلاق سے اپنے اطوار سے اپنے معاملات میں صفائی اور عمدگی پیدا کرنے سے اپنے ایمان کا یقین کرانا چاہئے۔لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ ذرا ذراسی باتوں پر قسمیں کھانا شروع کر دیتے ہیں۔جس سے ان کی غرض یقین دلانا ہوتا ہے۔لیکن ایسی قسمیں کھا کر وہ دو جرم کرتے ہیں۔ایسے لوگوں کا صرف یہی جرم نہیں کہ انہوں نے دیانت شرافت اور اخلاص سے کام نہیں لیا۔بلکہ انہوں نے دین کو بھی