خطبات محمود (جلد 10) — Page 182
182 نہیں سمجھا۔کیونکہ اگر وہ دین سمجھتے تو خلاف واقع امر پر قسم نہ کھاتے بلکہ بجائے اس کے اپنے اخلاق اور معاملات کی عمدگی سے لوگوں کا اعتبار حاصل کرتے۔اب اگر ان قسموں کی طرف دیکھا جائے تو کوئی شخص بھی کسی امر میں فیصلہ نہیں کر سکتا۔عدالتیں بھی فیصلہ نہیں کر سکتیں۔قسموں کا تو اب یہ حال ہے کہ ایک مجسٹریٹ بھی اگر کسی کو وقت اور موقعہ پر پکڑ لے۔تو وہ قسمیں کھانی شروع کر دیتا ہے کہ جی میں تو ایسا نہیں ہوں یہ میرے ساتھ عداوت کی گئی ہے لوگوں کو میرے ساتھ دشمنی ہے۔تو اگر اس قسم کی قسموں پر بھی اعتبار کیا جائے تو کوئی مجرم پکڑا ہی نہ جائے۔یہ الگ بات ہے کہ اس کے دل میں یہ بات تھی یا نہ لیکن انسان کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ اس سے آگاہ ہو سکے۔کیونکہ غیب کا علم اسے نہیں اور اگر وہ یہ کہہ کر اس شخص کو چھوڑ دے کہ جس کو غیب کا علم ہے وہ آپ ہی جان لے گا تو اس قسم کا فیصلہ دلالت کرتا ہے کہ اس بات کا احساس ہی نہیں رہا کہ کونسی دلیلیں انسان کے آگے کارگر ہو سکتی ہیں اور کونسی خدا کے سامنے۔بہر حال قسم کے ساتھ اگر کوئی شخص کچھ بیان کرے تو وہ جب تک اس کے ساتھ ا اخلاق معاملات اور دیگر حالات اور واقعات کو پیش نہ کر سکے یا لوگ ان سے واقف نہ ہوں تو وہ قسم کچھ معنی نہیں رکھتی اور پھر ہر قسم دلیل بھی نہیں ہوا کرتی صرف وہ قسم دلیل ہوتی ہے جو ایسے حالات میں لی جاتی ہے جب دلائل مفقود ہو جاتے ہیں۔پس قسم اس وقت دلیل بنتی ہے جب کہ ایک تو دلائل نہ ہوں اور دوسری طرف سے قرآئن الزام کے موجود ہوں یا پھر مباہلہ کے وقت دلیل بنتی ہے پھر خدا کی طرف سے آنے والے نبی بھی جو قسم کھاتے ہیں وہ بھی دلیل ہو جاتی ہے۔کیونکہ ان سے ان کی غرض اعلان ہوتی ہے۔ان حالات میں جو قسمیں کھائی جائیں صرف وہی دلیل ہوتی ہیں اور اگر تمام قسمیں ہی دلیل ہونے والی ہوں تو لوگ تو ہر روز سینکڑوں قسمیں کھاتے ہیں اور قسمیں کھانے کی ان کو کچھ ایسی عادت پڑ گئی ہے کہ بات تو ایک ہوتی ہے مگر وہ اس کے ساتھ بیسیوں قسمیں کھا جاتے ہیں ایسی قسمیں سراسر فضول اور لغو ہوتی ہیں۔اور جو شے لغو ہو وہ کس طرح دلیل بن سکتی ہے۔عرب میں تو بغیر قسم کے بات ہی نہیں کرتے۔اگر قسموں پر ہی عذاب آنے ہوں تو میرا خیال ہے کہ عرب میں کوئی انسان باقی نہ رہے۔مگر چونکہ ایسی قسمیں لغو ہوتی ہیں اس لئے ان پر کوئی گرفت نہیں ہوتی۔میں نے عرب میں دیکھا ہے کہ وہ بات بات پر قسمیں کھاتے ہیں۔ان کے منہ پر والله - بالله ثم باللہ کچھ ایسے طور پر رواں ہیں کہ وہ بات کرتے ہی نہیں جب تک کہ وہ چار پانچ بار پہلے