خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 180 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 180

180 20 ایمان بہتر اخلاق سے ظاہر کرو (فرمودہ ۲۱ مئی ۱۹۲۶ء) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : میں نے بہت دفعہ اپنی جماعت کے دوستوں کو توجہ دلائی ہے۔اور اب پھر اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ ہمارے اہم اور ضروری فرائض میں سے ایک فرض یہ بھی ہے کہ ہم دوسرے لوگوں کے سامنے ایک عمدہ نمونہ بنیں ہمارے اخلاق دوسروں کی نسبت اچھے ہوں۔تاکہ لوگ ہمارے نمونہ اور ہمارے معاملات اور ہمارے اخلاق دیکھ کر ہماری طرف توجہ کر سکیں اور ان کے لئے کوئی امر موجب ابتلاء نہ ہو اور وہ کوئی ٹھو کر نہ کھائیں۔اخلاق ایک ایسی چیز ہے جو ہر ایک کو نظر آتے ہیں لیکن ایمان کو کوئی نہیں دیکھتا۔کتنا ہی کسی کو یقین ہو کتنا ہی کسی کو وثوق ہو۔اگر اپنے ظاہر پر اس کا اثر نہ ہو۔تو کسی اور پر بھی اثر نہیں ہوتا۔ایمان کا معاملہ بالکل پوشیدہ ہوتا ہے اور کسی پر ظاہر نہیں ہوتا۔لیکن عجیب بات یہ ہے کہ ہمارے ملک میں مخفی اور پوشیدہ رہنے والی بات کو مقدم سمجھا جاتا ہے حالانکہ مقدم اس چیز کو رکھنے کی ضرورت ہے۔جو ہر وقت نظر کے سامنے رہتی ہے۔ایمان کو خدا تعالیٰ کے نزدیک بڑی حقیقت رکھتا ہے اور اس کی اہمیت زیادہ ہے۔مگر بندوں کے نزدیک اس کی اتنی حقیقت نہیں۔بندوں کے نزدیک تو اس چیز کی زیادہ حقیقت ہے جو ایمانی رنگ میں ہر وقت زیر نگاہ رہتی ہے۔قلبی ایمان کی حقیقت بندوں کے سامنے نہیں ہوتی۔وہ دل کے واقف نہیں ہوتے اس لئے کسی کے دل کی بات کا وہ اندازہ نہیں لگا سکتے۔ان کے سامنے ظاہر اطور پر کچھ ہونا چاہئے تو وہ کچھ کر سکتے ہیں۔یہ ایک نکتہ تھا لیکن افسوس کہ یہی نکتہ لوگوں کے سامنے مخفی ہو گیا ہے۔چاہئے تو یہ تھا کہ لوگ اس بات کو سمجھتے مگر برخلاف اس کے اس زمانہ میں ہمارے لوگ بالکل ہی نہ سمجھ سکے کہ قلب کی ساری کیفیتیں صرف خدا