خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 165 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 165

165 ہے۔کہ ان میں اپنے ہم جنس سے مقابلہ اور اس سے بڑھنے کی خواہش ہوتی ہے۔جب حیوانوں میں یہ بات ہے۔تو میں نہیں سمجھتا کہ انسان اور پھر مومن انسان جب دیکھے کہ اور لوگ خدا تعالی کی راہ میں قربانی کرنے میں بڑھ رہے ہیں تو وہ خاموش بیٹھا رہے پس میرے نزدیک جہاں لوگوں کا قصور ہے کہ انہوں نے چندہ خاص کی تحریک میں پوری سرگرمی سے کام نہیں لیا وہاں کارکنوں کا بھی قصور ہے۔اور بہت حد تک انہی کا قصور ہے انہوں نے تحریک کو مؤثر بنانے کی کوشش نہیں کی۔اب میں کارکنوں اور قادیان کے سب لوگوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ سرگرمی سے اس تحریک میں حصہ لیں۔پھر میں بیرونی جماعتوں کو توجہ دلاتا ہوں۔بیرونی جماعتوں سے چندہ خاص کی آمد کا اندازہ ۵۰ ہزار تک کا تھا مگر اس وقت تک جو فہرستیں آئی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ بیس ہزار سے چند سو او پر یا چند سو نیچے تک چندہ پہنچا ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ بہت سی جماعتیں ایسی ہیں جو ابھی اس تحریک میں شامل نہیں ہوئیں۔اگر زمیندار جماعتوں کو نکال دیا جائے تو ۱۰ ہزار کے قریب رقم ایسی جماعتوں کے ذمہ پڑتی ہے جو زمیندار نہیں ہیں۔اگر ہم سلسلہ کے کام کو صحیح طریق پر چلانا چاہتے ہیں تو اس کا صرف یہی طریق نہیں ہے کہ بجٹ کو چندہ عام کے ماتحت لائیں یا آمد کو بجٹ کے مطابق کرنے کی کوشش کریں۔بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ ریز روفنڈ بھی قائم کیا جائے جس کی سالانہ اس قدر آمد ہو کہ جب کبھی جماعت کی آمدنی میں کسی وجہ سے کمی واقعہ ہو جائے یا کوئی خاص خرچ آپڑے تو اس آمدنی سے کام لیں۔وہ لوگ جن کے گزارہ کا انحصار صرف اس آمد پر ہوتا ہے کہ ادھر آئی اور ادھر خرچ ہو گئی وہ ہمیشہ تکلیف میں رہتے ہیں۔پس ضروری ہے کہ ایک حصہ آمد کا ایسا ہو جو مستقل ہو۔موجودہ بجٹ جو اڑھائی لاکھ کے قریب ہوتا ہے اس کو مد نظر رکھتے ہوئے ۴۰ فیصدی مستقل آمد کے لئے ریزرو فنڈ اس قدر ہونا چاہئے جس کی آمد ایک لاکھ سالانہ ہو۔اور یہ ۱۵ لاکھ ریزرو فنڈ سے پیدا ہو سکتی ہے۔بظاہر یہ بڑی رقم ہے لیکن اگر تدبیر اور توجہ سے اس کے مہیا کرنے کی کوشش کی جائے تو اس کا پورا ہونا کوئی مشکل بات نہیں۔بہت آسانی سے یہ پوری ہو سکتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ کو چلانے کیلئے وصایا کا عظیم الشان طریق رکھا ہے۔اور خدا تعالیٰ کا مقرر کردہ طریق کبھی غلط نہیں ہوتا۔اگر کامیابی میں کوئی نقص پیدا ہوتا ہے تو انسان کے اپنے عمل سے نہ کہ اس طریق کے ناقص ہونے سے۔دیکھو جب قرآن کریم آیا تو جن لوگوں نے اس پر عمل کیا وہ مٹھی بھر ہوتے ہوئے ساری دنیا پر غالب آگئے لیکن باوجود اس کے کہ اب بھی وہی قرآن ہے۔اور مسلمان لاکھوں کروڑوں ہوتے ہوئے بھی ترقی نہ کر سکے۔انہوں