خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 166 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 166

166 نے نادانی سے سمجھا کہ قرآن میں نقص ہے۔اور ہم قرآن کو چھوڑ کر ترقی کر سکتے ہیں۔اس پر خدا تعالی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھیجا تا آپ کے ذریعہ اسلام کو دنیا میں غالب کرے۔اب دیکھ لو ہماری نہایت ہی قلیل جماعت جو تھوڑا بہت کام کر رہی ہے اس سے دشمن بھی اقرار کر رہے ہیں کہ یہ جماعت غالب ہونے والی ہے۔اور اس طرح ثابت ہو رہا ہے کہ قرآن کریم کا نقص نہیں بلکہ اس پر عمل نہ کرنے والوں کا نقص ہے۔تو خدا تعالٰی نے سلسلہ کا کاروبار چلانے کے لئے وصیت کا ایک ایسا طریق رکھا ہے کہ اگر اس پر صحیح طریق سے عمل کیا جائے تو کبھی مشکل نہ پیش آئے۔اسی لئے میں کارکنوں سے کہا کرتا ہوں کہ اس سے ناجائز فائدہ نہ اٹھاؤ اگر اس سے صحیح طور پر فائدہ اٹھایا جاتا۔اور جو ہدایات اس بارے میں میں دیتا رہا ہوں ان پر عمل کیا جاتا تو اس وقت تک ۴-۵ لاکھ روپیہ جمع ہو جاتا۔وصایا کی آمد غیر معمولی آمد ہے۔ایک آدمی فوت ہو جاتا ہے۔جس کی دس لاکھ کی جائداد ہوتی ہے۔اس کی جائداد سے اگر ایک لاکھ روپیہ آجائے۔تو یہ غیر معمولی آمد ہو گی۔کیونکہ ہر سال اتنا روپیہ اس طرح نہیں آسکتا اگر وصایا کی آمد کو غیر معمولی آمد قرار دے کر بجٹ میں شامل نہ کیا جائے۔اور اسے علیحدہ رکھا جائے تو چند سال میں ۱۵ لاکھ روپیہ جمع ہو جانا کوئی مشکل بات نہیں ہے۔اس کے لئے میں نے یہ تجویز بتائی تھی کہ وصیت کی آمد پانچ سو یا اس سے زائد جو اکٹھی آئے اس کو غیر معمولی آمد سمجھا جائے۔اور ریز رو فنڈ میں شامل کر دیا جائے۔اس طرح اگر صحیح طور پر عمل کیا جائے۔اور جماعت کو وصیت کی اہمیت بتائی جائے اور بتایا جائے کہ یہ خدا تعالیٰ کا قائم کردہ طریق ہے۔تو میں سمجھتا ہوں کہ ہزاروں آدمی جنہیں تاحال اس طرف توجہ نہیں ہوئی وصیت کے ذریعہ اپنے ایمان کامل کر کے دکھائیں گے۔اس کے علاوہ اور بھی تدابیر ہیں۔مثلاً چندہ عام اگر بجٹ کو پورا کر دے تو ہو سکتا ہے کہ تین تین چار چار سال کا وقفہ دیکر چندہ خاص جمع کر کے ریزرو فنڈ میں داخل کر دیا جائے۔اس طرح کرنے سے جماعت کی مالی حالت محفوظ ہو سکتی ہے۔اور کوئی کام مالی مشکلات سے بند کرنے کا خدشہ نہیں ہو سکتا۔مشکلات کئی رنگ اور کئی طریق سے پیش آتی رہتی ہیں۔بعض اوقات ایک شخص مخلص بھی ہوتا ہے مالی امداد دینے کو اس کا جی بھی چاہتا ہے مگر ایسی مشکلات میں پڑا ہوتا ہے کہ اپنی نیت کے مطابق عمل نہیں کر سکتا۔مثلاً ایک سوداگر ہے اس کے کاروبار میں اگر نقصان واقعہ ہو جائے تو پھر اس سے یہ امید نہیں کی جاسکتی کہ جس قدر سلسلہ کی امداد وہ پہلے کرتا تھا اسی قدر اپنی مالی حالت