خطبات محمود (جلد 10) — Page 164
164 وقت کسی قسم کا ملال نہیں ہو تا۔اور وہ مجھ سے زیادہ چندہ دیتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ مجھے ملال پیدا ہوتا ہے۔اور میں ان کے برابر چندہ نہیں دے سکتا۔یہ خیال خود اس شخص کے دل میں پیدا ہونا چاہئے جو خدمت دین میں دوسروں سے پیچھے رہتا ہو۔اور اسے اس بات کا منتظر نہیں رہنا چاہئے کہ یہ بات اسے کوئی دوسرا یاد دلائے عام طور پر لوگوں کو دوسروں کی آمد کا اندازہ ہوتا ہے۔اس لئے ہر شخص دیکھ سکتا ہے۔کہ اس کی کیا وجہ ہے کہ چندہ لکھواتے وقت میرے دل میں ملال پیدا ہوتا ہے مگر دوسرا مجھے سے زیادہ لکھوا کر کوئی ملال محسوس نہیں کرتا۔پھر میں چندہ ادا کرنے میں لیت و لعل کرتا ہوں۔اور وہ خوشی سے دے دیتا ہے۔جب ہمارے ظاہری حالات برابر ہیں۔تو پھر کیا وجہ ہے کہ چندہ دینے میں فرق ہے اگر اس طرح انسان غور کرے۔تو بہت جلدی اپنی اصلاح کر سکتا ہے۔وہ لوگ جو دوسروں کے بتانے کے منتظر رہتے ہیں۔عام طور پر وہ ہدایت نہیں پاتے۔ہدایت وہی پاتے ہیں جو اپنے ایمان کی آپ فکر کرتے ہیں اور اپنا علاج آپ کرتے ہیں۔چونکہ چندوں وغیرہ کے اعلان جلسوں میں ہوتے ہیں اس لئے ہر شخص اندازہ لگا سکتا ہے کہ دوسرے اس کے مقابلہ میں کس طرح اور کس قدر حصہ لے رہے ہیں اور اس طرح اپنی اصلاح کر سکتا ہے۔لیکن افسوس ہے کہ بہت سے لوگ بجائے اس کے کہ دوسروں کی قربانی اور ایثار کا پتہ لگا کر اپنے نقص دور کریں دوسروں پر اس لئے ناراض ہوتے ہیں کہ وہ انہیں جگاتے کیوں ہیں۔اس وقت میں سب سے پہلے قادیان کے دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ چندہ کی ادائیگی میں قربانی اور ایثار سے کام لیں۔مگر اس کے ساتھ ہی میں کارکنوں کو ملامت بھی کرتا ہوں کہ انہوں نے چندہ کی وصولی میں اس اخلاص سے کام نہیں لیا۔جو لینا چاہئے تھا۔بلکہ اس دیانتداری سے بھی کام نہیں لیا جو ایسے موقعہ پر ضروری تھی۔چندہ کی تحریک کے دو مہینے ہو گئے ہیں مگر ابھی تک قادیان سے بھی وصولی کی کوشش نہیں کی گئی اور باوجود اس کے کہ میں نے کئی بار توجہ دلائی ہے کہ قربانی اور ایثار کرنے والوں کی مثالوں سے دوسروں کو آگاہ کرنا چاہئے اور اس قسم کی باتوں کا ذکر اخباروں میں آنا چاہئے تاکہ ان لوگوں کے لئے تازیانہ ہو جو سستی اور کوتاہی کرتے ہیں مگر کچھ نہیں کیا گیا دیکھو انسان تو انسان جانوروں میں بھی دوسروں کو دیکھ کر بڑھنے کی حس ہوتی ہے۔یہ میں نے دیکھا ہے گھوڑے کی سواری میں میرا ایک گھوڑا تھا جو بہت سفر کر کے تھک جانے کی حالت میں مارنے پر تیز نہیں چلتا تھا۔لیکن ایک دفعہ جب کہ وہ بہت تھکا ہوا تھا۔ایک تازہ دم گھوڑا آگیا۔اسے دیکھ کر وہ اس قدر زور سے بھاگنا اور آگے بڑھنا چاہتا تھا کہ روکتے روکتے میرے ہاتھ زخمی ہو گئے۔تو جانوروں میں یہ بات پائی جاتی