خطبات نور — Page 639
639 تھے۔اب لگے رونے اور پچھتانے کہ میں نے نبی کریم کی اجازت کو اس وقت کیوں نہ مانا۔جب ایسے ایسے صحابہ کو رضامندی کا پتہ نہیں لگ سکا تو تم کو کیونکر لگ سکتا ہے؟ ہم بیمار ہو جاتے ہیں یا ہمیں کوئی خوشی ہوتی ہے تو تم میں سے بعض ایسے ہیں جن کا ہم سے کوئی تعلق نہیں کہ وہ ہماری رنج و راحت میں بالکل شریک نہیں ہوتے اور ہمیں پوچھتے تک نہیں۔وَإِذَا خَلَا بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ اور جب یہ آپس میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ دیکھو تم نے فلاں بات جو تم کو سمجھ آگئی وہ کیوں بتلائی ؟ اب وہ تم کو خدا کے روبرو لزم ٹھہرائے گا۔او لا يَعْلَمُونَ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعْلِنُونَ (البقرة:۷۸) کیا یہ نہیں جانتے کہ اللہ ان کے چھپے اور ظاہر اور ان کے سب بھیدوں کو جانتا ہے تو وہ پھر چھپاتے کس سے ہیں؟ میں تم کو قرآن پڑھاتا ہوں۔میں نے عربی کی کتابیں پڑھی ہیں۔مجھے تو کوئی سمجھ میں نہیں آیا کہ میں قرآن کریم کے سوا اور کس قسم کا وعظ کروں۔جمعے کے خطبے ہوتے ہیں۔اس میں کوئی بات کہہ دیتا ہوں۔مجھے تو قرآن کریم سے بڑھ کر کوئی کتاب نظر نہیں آتی۔میں نے کتابوں کو اس قدر پڑھا ہے، وہ کتابیں میرے پڑھنے کی خود گواہی دے سکتی ہیں کیونکہ ان پر میں نے بڑی محنت سے یادداشتیں لکھ دی ہوئی ہیں۔تو مجھے تو قرآن کریم کے مقابلے میں کوئی کتاب پسند نہیں آئی۔قرآن سے ہی وعظ و نصیحت کرتا جاتا ہوں۔میں نے دکان کھولی ہوئی ہے۔خدا تعالیٰ نے مجھے ایسا فسم دیا ہوا ہے کہ صرف قرآن کریم سے ہی میں علاج کرنا جانتا ہوں۔پھر بھی میں دیکھتا ہوں کہ بعض کو ہماری تعلیم سے کچھ نفرت بھی ہے کیونکہ وہ ہمارے ساتھ کسی حالت میں بھی شریک نہیں ہوتے۔یہ تو پڑھے ہوؤں کا حال ہے۔بعض ان میں سے ان پڑھ بھی ہیں۔ان کے پاس کوئی کتاب نہیں مگر انکل بازی سے کام لیتے ہیں۔میرے خیال میں عیسائی مذہب بھی ایسا ہی ہے۔وہ بھی یہی کہتے ہیں کہ ہم کلام الہی کے خادم ہیں۔کوئی گورمکھی کوئی اردو کوئی ہندی میں لکھ کر ان سب کو کلام الہی کہہ دیتے ہیں۔لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ إِلَّا أَيَّامًا مَّعْدُودَةً (البقرہ) اس پر دعویٰ کہ ہم کو آگ نہ چھوٹے گی۔وہ جھوٹ کہتے ہیں۔ہم جناب الہی کا قاعدہ بتلاتے ہیں بَلَى مَنْ كَسَبَ سَيِّئَةً وَّاَحَاطَتْ بِهِ خَطِيئَتُهُ (البقرة: ۸۳) جنہوں نے بدیاں کیں اور ان کو ان کی بدیوں نے گھیر لیا تو وہی دوزخی ہیں۔اور وَالَّذِينَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّالِحَاتِ (البقرة:۸۳) جو لوگ ایمان لاتے اور عمل صالح کرتے ہیں ان کیلئے دنیا میں بھی جنت اور آخرت میں بھی جنت ہے۔الفضل جلد نمبر ۲۴-۰-۲۶ نومبر ۱۹۱۳ء صفحه ۱۵)