خطبات نور — Page 638
638 ایک صحابی دن کو روزے رکھتے اور رات کو عبادت کرتے تھے۔وہ حضرت سلمان فارسی کے دوست بھی تھے۔ایک دفعہ سلمان ان کے گھر تشریف لے گئے تو ان کی بیوی کالباس خراب تھا۔انہوں نے ان کی بیوی سے پوچھا کہ بھاوجہ صاحبہ! آپ کی ایسی حالت کیوں ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ میرے کپڑوں کی حالت کیونکر اچھی ہو۔تمہارے بھائی کو تو بیوی سے کچھ غرض ہی نہیں۔وہ تو دن بھر روزے اور رات کو عبادت میں مشغول رہتے ہیں۔حضرت سلمان نے کھانا منگوایا اور اس دوست کو کہا کہ آؤ کھاؤ۔انہوں نے جواب دیا کہ میں تو روزے دار ہوں۔تو حضرت سلمان نے ناراضگی ظاہر کی۔تو مجبوراً اس صحابی نے آپ کے ساتھ کھانا کھا لیا۔پھر حضرت سلمان نے جب رات ہوئی تو چارپائی منگوا کر ان کو کہا کہ سو جاؤ۔انہوں نے اس سے انکار کیا اور کہا کہ میں رات کو عبادت کیا کرتا ہوں۔تو پھر حضرت سلمان نے ان کو زبردستی سلا دیا۔صحابہ ایسے نہ تھے کہ إِذَا جَاءَهُمْ أَمْرٌ مِّنَ الْأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ اذَاعُوا بِه (النساء:۸۴) جب کوئی امن و خوف کی بات ہوتی تو اسے پھیلا دیتے تھے۔تم میں سے اکثر ایسے ہیں جو بات سنی تو فوراً اس کو پھیلا دیتے ہیں۔آخر ان کا معاملہ حضرت نبی کریم میں یہ کے پیش ہوا تو آپ نے اس صحابی کو فرمایا کہ تمہارے متعلق ہمیں یہ بات پہنچی ہے۔تو انہوں نے یہ عرض کیا کہ بات تو جیسے حضور کو کسی نے پہنچائی ہے وہ صحیح ہے۔تب نبی کریم صلی اللہ نے ان کو فرمایا۔إِنَّ لِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَلِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَقًّا۔یہ بھی فرمایا۔وَلِعَيْنَيْكَ عَلَيْكَ حَقًّا (بخاری کتاب الصوم) تیرے پر نفس کے بھی حقوق ہیں۔تیری بیوی کے بھی حقوق ہیں۔اس نے عرض کیا۔یا رسول اللہ ! اس کی مراد اس سے یہ تھی کہ میں تو خوب مضبوط ہوں۔آپ مجھے کچھ تو اجازت دیں۔تو نبی کریم صلعم نے فرمایا کہ اچھا ایک مہینے میں تین روزے رکھ لیا کرو (چاند کی ۱۳ ۱۴ ۱۵)۔اس نے پھر کہا۔یا رسول اللہ ! مطلب یہ تھا کہ میں بہت طاقتور ہوں۔آپ مجھے اور زیادہ اجازت دیں تو نبی کریم ملی و یا لیلی نے فرمایا۔اچھا دو دن افطار کر کے ایک دن روزہ رکھ لیا کرو۔اس نے پھر عرض کیا۔یا رسول اللہ ! تو نبی کریم می ﷺ نے فرمایا۔اچھا سب سے بڑھ کر تو صوم داؤدی تھا (بخاری کتاب الانبیاء فی ذکر داود علیہ السلام)۔تم ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن افطار کر لیا کرو۔پھر کہا یا رسول اللہ ! مطلب یہ تھا کہ مجھے قرآن کریم کے روزانہ ختم کرنے کی تو اجازت فرما دیں۔تو نبی کریم ملی لی نے فرمایا کہ ہفتے میں ایک ختم کر لیا کرو۔تو اس نے پھر عرض کیا یا رسول اللہ ! تو نبی کریم میل اللہ ﷺ نے فرمایا۔اچھا قرآن کریم کا ختم تین دن میں کر لیا کرو۔اس سے جلدی کی بالکل اجازت نہیں۔جب وہ بوڑھے ہو گئے تو پھر ان کو اس سے تکلیف ہوئی اور اب نبی کریم میں یہ تو فوت ہو گئے ہوئے