خطبات نور — Page 526
۱۸ اکتوبر ۱۹۱۲ ء 526 خطبه جمعه تشہد، تعوذ اور تسمیہ کے بعد حضرت خلیفہ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ نے مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت فرمائی۔يُأَيُّهَا الْمُزَمِّلُ - قُمِ الَّيْلَ إِلَّا قَلِيلاً - نِصْفَةَ اَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِيْلًا - اَوْزِدْ عَلَيْهِ وَ رَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلاً - إِنَّا سَنُلْقِى عَلَيْكَ قَوْلاً ثَقِيلاً - إِنَّ نَاشِئَةَ الَّيْلِ هِيَ اَشَدُّ وَطَاءً وَّ أَقْوَمُ قِيْلًا - إِنَّ لَكَ فِي النَّهَارِ سَبْحًا طَوِيلاً - وَاذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَتَبَتَّلْ إِلَيْهِ تَبْتِيلا - رَبُّ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيلاً - وَ اصْبِرْ عَلَى مَا يَقُولُونَ وَ اهْجُرْهُمْ هَجْرًا جميلاً - (المزمل: ۲ تا ۱) اور پھر فرمایا:۔ہماری سرکار حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و سلم وحی الہی کی عظمت اور جبروت کو دیکھ کر بہت گھبرائے۔بدن پر لرزہ تھا۔گھر میں تشریف لائے اور اپنی بی بی سے کہا دیرونی (بخاری باب تفسیر سورۃ المدثر) کہ میرے بدن پر کپڑا ڈھانک دو۔انہوں نے اوڑھائے۔اس حالت کا نقشہ کھینچ کے