خطبات نور — Page 525
525 بھی کرتے ہیں۔اکثر لوگوں کا اگر تم حکم مانو گے تو وہ تم کو گمراہ کر دیں گے۔خدا کا حکم مانو۔بادشاہ اور بڑے بڑے حکام لوگوں کی اصلاح کے لئے کیسے کیسے قانون بناتے ہیں اور دو تین برس اس کی نگرانی کرتے اور پھر اس کو جاری کرتے ہیں۔پھر اس پر نظر ثانی کر کے اصلاح کرتے ہیں۔پھر اس کو شائع کرتے ہیں۔غرض مقنن اور تجربہ کار لوگ کیسی کیسی تکلیفیں لوگوں کی بھلائی کے لئے برداشت کرتے ہیں۔لیکن لوگ اس کی بھی نافرمانی کرتے ہیں۔دیکھو! پولیس کیسی کوشش لوگوں کے امن و امان کے لئے کرتی ہے۔اگرچہ پولیس میں بھی بعض بد کار پیدا ہو جاتے ہیں۔لیکن تاہم وہ لوگوں سے چوری بدکاری چھڑانے میں کوشاں رہتی ہے۔لیکن جس قدر نئے نئے قانون وضع ہوتے ہیں اسی قدر شریر لوگ شرارت کی راہیں نکال لیتے ہیں۔اس لئے ہر ایک شخص کو تم میں سے چاہئے کہ وہ اٹھ کر ہر روز لوگوں کو سمجھائے۔اگر کوئی کسی کی بات نہیں مانتا تو اس کا کوئی مضائقہ نہیں۔لوگ بادشاہوں، حکام اور دیگر اپنے بہی خواہوں کی نافرمانی کرتے ہیں، اس لئے خدا کا حکم ہے کہ تمہارا کام سمجھانا اور ڈرانا ہے۔تم اپنا کام کئے جاؤ۔لوگوں کو سمجھاتے جاؤ اور ڈراتے جاؤ۔اور اس ڈرانے میں یہ کوشش کرو کہ وَرَبَّكَ فَكَبِّرُ وَ ثِيَابَكَ فَطَهِّرْ یعنی خدا تعالیٰ کی عظمت جبروت کا ذکر ہو اور اپنی غلطیوں کی بھی اصلاح کرو۔چوری ، بد نظری بد کرداری اور دیگر تمام بدیوں کو پہلے خود چھوڑ دو۔اور یہ وعظ اس لئے نہ ہو کہ بس آپ کھڑے ہوئے یہ کہو کہ میرے لئے کچھ پیسے جمع کرو۔بلکہ محض اللہ کے لئے کرو۔میں سَالَ سَائِل کے لئے پکا تھا۔مگر معلوم ہوتا ہے کہ ارادہ الہی کچھ اسی طرح تھا۔یہ بڑا معرفت کا نکتہ ہے جو میں نے تمہیں سنایا ہے۔دوسروں کو ضرور ہر روز نصیحت کرو۔اس سے تین فائدے ہوتے ہیں۔اول خدا کے منکر نہی عن المنکر کی تعمیل ہوئی ہے۔دوسرے ممکن ہے کہ جس کو نصیحت کی جائے اس کو نیک کاموں کی توفیق ملے۔تیسرے جب انسان اپنے نفس کو مخاطب کرتا ہے تو اس کو شرم آتی ہے اور اس کی بھی اصلاح ہوتی ہے۔تمہارے بیان میں خدا کی عظمت اور اس کی قدرت و تصرف کا ذکر ہو۔اس کا تین طرح دنیا میں مقابلہ ہوتا ہے۔بعض لوگ تو منہ پر کہہ دیتے ہیں کہ نہ ہم مانتے ہیں اور نہ ہم سنا چاہتے ہیں۔اور بعض سنتے ہیں مگر عمل کرنے کی پرواہ نہیں کرتے۔اور بعض ایسے ہوتے ہیں کہ قسم قسم کے وجوہات نکال کر واعظ میں نکتہ چینی کرتے ہیں مگر واعظ کو چاہئے کہ اللہ کے لئے صبر کرے اور اپنا کام کرتا چلا جائے۔(بدر جلد ۱۲ نمبر ۱۸۔۔۔۔۳۱ اکتوبر ۱۹۱۲ء صفحہ ۳)