خطبات نور — Page 332
332 قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدٌ تو کہہ دے (وہ جو اس کا کہنے والا ہے) اللہ ہے اور وہ احد ہے۔ساری ہی صفات کاملہ سے موصوف اور ساری بدیوں سے منزہ ذات بابرکات ہے۔یہ پاک نام اور اس کے رکھنے کا فخر صرف صرف عربوں ہی کو ہے۔اللہ کا لفظ انہوں نے خالص کر کے صرف صرف خدا کے واسطے خاص رکھا ہے۔اور ان کے کسی معبود بت دیوی دیوتا پر انہوں نے یہ نام کبھی بھی استعمال نہیں کیا۔مشرک عربوں نے بھی اور شاعر عربوں نے بھی بجز خدا کی ذات کے اس لفظ کا استعمال کسی دوسرے کے حق میں نہیں کیا خواہ وہ کتنا ہی بڑا اور واجب التعظیم ان کا کیوں نہ ہو۔یہ فخر بجز عرب کے اور کسی ملک اور قوم کو میسر نہیں۔زبان انگریزی سے میں خود تو واقف ہوں نہیں مگر لوگوں سے سنا ہے کہ اس زبان میں بھی کوئی مفرد لفظ خاص کر کے خَالِصًا لله نہیں ہے۔ہر لفظ جو وہ خدا کے واسطے بولتے ہیں وہ ان کی زبان کے محاورے میں اوروں پر بھی بولا جاتا ہے۔سنسکرت میں تو میں علی وجہ البصیرت کہہ سکتا ہوں کہ اول ہی اول جو ان کی کتابوں میں خدا کا نام رکھا گیا ہے وہ اگنی ہے اور یہ ظاہر ہے کہ اگنی آگ پر بھی بولا جاتا ہے۔علی ہذا القیاس اور اور جو نام بھی ویدوں میں پر میشر پر بولے ہیں وہ سارے کے سارے ایسے ہی ہیں کہ جن کی خصوصیت خدا کے واسطے نہیں بلکہ وہ سب کے سب اور دیوی دیوتاؤں وغیرہ پر بھی بولے جاتے ہیں۔یہ فخر صرف اسلام ہی کو ہے کہ خدا کا ایسا نام رکھا گیا ہے کہ جو کسی معبود وغیرہ کے واسطے نہیں بولا جاتا۔اَحَدٌ وہ اللہ ایک ہے۔نہ کوئی اس کے سوا معبود اور نہ اس کے سوا کوئی تمہارے نفع و ضرر کا حقیقی مالک ہے۔کاملہ صفات سے موصوف اور ہر بدی سے منزہ اور ممتاز و پاک ذات ہے۔اللهُ الصَّمَدُ الله محمد ہے۔صمد کہتے ہیں جس کی طرف ان کی احتیاج ہو اور خود نہ محتاج ہو۔صمد سردار کو کہتے ہیں۔صمد اس کو کہتے ہیں کہ جس کے اندر سے نہ کچھ نکلے اور نہ اس میں کچھ گھے۔یہ ایسا پاک نام ہے کہ انسان کو اگر اللہ تعالٰی کے اس نام پر کامل ایمان ہو تو اس کی ساری حاجتوں کے لئے کام کافی اور سارے دکھوں سے نجات کے سامان ہو جاتے ہیں۔میں خود تجربتا کہتا ہوں اور اس امر کی عملی شہادت دیتا ہوں کہ جب صرف اللہ ہی کو محتاج الیہ بنا لیا جاتا ہے تو بہت سے ناجائز ذرائع اور اعمال مثلا کھانے پینے مکان مہمانداری، بیوی بچوں کی تمام ضروری حاجات سے انسان بچ جاتا ہے اور انسان ایسی تنگی سے بچ جاتا ہے جو اس کو ناجائز وسائل سے ان مشکلات کا علاج کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔جوں جوں دنیا خدا سے دور ہو کر آمدنی کے وسائل سوچتی ہے اور دنیوی آمد میں ترقی کرتی جاتی ہے توں توں