خطبات نور — Page 331
331 طرح سے بلحاظ تقسیم مضامین یہ سورۃ قرآن شریف کے ایک تہائی کے برابر ہے۔یعنی قرآن کریم کے تین اہم اور ضروری مضامین میں سے ایک مضمون کا ذکر اس سورۃ میں کیا گیا ہے۔دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب سورۃ فاتحہ سے جو کہ قرآن شریف کی کلید اور اُمُّ الْكِتَابِ ہے شروع ہوئی ہے اور یہ اُمُّ الْكِتَابِ، ضَالِینَ پر ختم ہوتی ہے۔ضال کہتے ہیں کسی سے محبت بے جا کرنے کو یا جہالت سے کام لینے اور بچے علوم سے نفرت اور لاپرواہی کرنے کو۔صرف دو شخص ہی ضال کہلاتے ہیں۔ایک تو وہ جو کسی سے بیجا محبت کرے۔دوسرا وہ جو بچے علوم کے حصول سے مضائقہ کرے۔انسان ہر روز علم کا محتاج ہے۔سچائی انسان کے قلب پر علم کے ذریعہ سے ہی اثر کرتی ہے۔پس جو علم نہیں سیکھتا اس پر جہالت آتی ہے اور دل سیاہ ہو جاتا ہے جس سے انسان اچھے اور برے مفید اور مضر نیک اور بد حق و باطل میں تمیز نہیں کر سکتا۔حدیث میں آیا ہے کہ ضال نصاری ہیں۔دیکھ لو انہوں نے اپنی آسمانی کتاب کو کس طرح اپنے تصرف میں لا کر ترجمہ در ترجمہ۔ترجمہ در ترجمہ کیا ہے کہ اب اصل زبان کا پتہ ہی نہیں لگتا۔صاف بات ہے کہ ترجمہ تو خیال ہے مترجم کا۔غرض علوم الہی اور کتب سماوی میں انہوں نے ایسا تصرف کیا اور جہالت کا کام کیا ہے کہ وہ اصل الفاظ اب ملنے ہی محال ہیں۔دوسری طرف حضرت مسیح کی محبت میں اتنا غلو کیا ہے کہ ان کو خدا ہی بنالیا۔اور اس سورۃ میں اس قوم نصاری کا ذکر ہے اور یہ سورۃ قرآن شریف کے آخر میں ہے۔اور یہ ضال کی تفسیر ہے اور ضال کا لفظ ام الکتاب کے آخر میں ہے۔پس اس طرح سے ام الکتاب کے آخر کو قرآن کے آخر سے بھی ایک طرح کی مناسبت ہے۔ایک صحابی " جو کہ میرا اپنا خیال ہے کہ غالبا وہ عیسائیوں کے پڑوس میں رہتا ہو گا وہ اس سورت کا ہر ہے۔نماز میں التزام کیا کرتا تھا۔بلکہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کی طرف توجہ دلائی۔چنانچہ آپ صبح کی سنتوں میں غالبا زیادہ تر قُلْ يَاتُهَا الْكَافِرُونَ اور قُلْ هُوَ اللَّهُ اَحَدٌ ہی پڑھا کرتے تھے۔مغرب کی نماز (جو کہ جہری نماز ہے) میں بھی اول رکعت میں قُلْ يَايُّهَا الْكَافِرُونَ اور دوسری رکعت میں قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدٌ اکثر پڑھا کرتے تھے۔وتروں میں بھی آنحضرت کا یہی طریق تھا۔چنانچہ پہلی رکعت میں سبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى، دوسری میں قُلْ يَايُّهَا الْكَافِرُونَ اور تیسری میں قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدٌ بہت پڑھا کرتے تھے۔غرض نماز کے اندر اور نماز کے علاوہ اور اد میں اس سورۃ شریفہ کی بڑی فضیلت آئی ہے۔