خطبات نور — Page 333
333 قدرت اور منشاء الہی ان آمدنیوں کو ایک خرچ کا کیڑا بھی لگا دیتا ہے۔گھر کی مستورات سے ہی لو اور پھر غور کرو کہ اس قوم نے کس طرح محنت کرنا اور کاروبار خانگی سے دست برداری اختیار کی ہے۔چرخہ کاتنا یا چکی ہیں کر گھر کی ضرورت کو پورا کرنا تو گویا اس زمانہ میں گناہ بلکہ کفر کی حد تک پہنچ گیا ہے۔کام کاج (جو کہ دراصل ایک مفید ورزش تھی جس سے مستورات کی صحت قائم رہتی اور دودھ صاف ہو کر اولاد کی پرورش اور عمدہ صحت کا باعث ہوتا تھا) تو یوں چھوٹا۔اخراجات میں ایسی ترقی ہو گئی کہ آجکل کے لباس کو دیکھ کر مجھے تو بارہا تعجب آتا ہے۔ایسا کما لباس ہے کہ دس پندرہ دن کے بعد وہ نکما محض ہو کر خادمہ یا چوہڑی کے کام کا ہو جاتا ہے اور خدا کی قدرت کہ پھر وہ چوہڑی بھی اس سے بہت عرصہ تک مستفید نہیں ہو سکتی۔وہ کپڑے کیا ہوتے ہیں؟ وہ تو ایک قسم کا مکڑی کا جالا ہوتا ہے جس میں بیٹھ کر وہ شکار کرتی ہے۔پھر اس کے ساتھ ساتھ ایک اور خطرناک گھن لگا ہوا ہے۔وہ یہ کہ اشیاء خوردنی کا نرخ بھی گراں ہو رہا ہے۔ہر چیز میں گرانی ہے۔اگر آمدنی کی ترقی ہوئی تو کیا فائدہ ہوا؟ دوسری طرف خرچ کا بڑھاؤ ہو گیا۔بات تو وہیں رہی۔ہمارے شہر کا ذکر ہے کہ ایک قوم دو آنے روز کے حساب سے ایک زمانہ میں مزدوری کیا کرتی تھی۔ایک دفعہ انہوں نے مل کر یہ منصوبہ کیا کہ بجائے ۸ دن کے ۵ دن میں روپیہ لیا کریں اور جو شخص ہم میں سے اس کی خلاف ورزی کرے اس کی سزا یہ ہے کہ اس کی عورت کو طلاق۔مگر خدا کی قدرت وہ کام نہ چل سکا اور آخر مجبوراً ان کو فتوئی لینا پڑا کہ اب کیا کریں۔ملاں کے پاس گئے تو اس نے کہہ دیا کہ ہماری مسجد میں چند روز مفت کام کرو۔جواز کی راہ نکال دیں گے۔غرض ایک تو وہ وقت تھا اور ایک اب ہے کہ وہ روپیہ روز یا بعض سوا روپیہ روزانہ کماتے ہیں۔اور عجیب بات یہ ہے کہ کام بھی اس وقت کے برابر عمدہ اور مضبوط نہیں اور مقدار میں بھی اس وقت سے کم ہے۔اس وقت وہی لوگ اسی مزدوری میں انجینئرنگ اور نقشہ کشی کرتے تھے اور وہی عمارت کا کام کرتے تھے مگر اب ان کاموں کے واسطے الگ ایک معقول تنخواہ کا ملازم درکار ہے۔میرے والد صاحب ایک قسم کی لنگی (کھیں) پہنا کرتے تھے اور وہ کپڑا گھر کا بنایا ہوا ہو تا تھا۔اس میں لا ضرور ہو تا تھا۔ہماری بہنوں کو فخر ہوا کرتا تھا کہ ہم اپنے والد صاحب کے پہننے کی لنگی اپنے ہاتھوں سے تیار کرتی ہیں۔غرض ایک وہ وقت تھا کہ آمدنیاں اگرچہ کم تھیں مگر بوجہ کسب حلال ہونے کے بابرکت تھیں۔اور