خطبات نور — Page 304
304 کہ جب ادنی اونی محسنوں سے ہمیں محبت پیدا ہو جانا ہماری فطرت سلیم کا تقاضا ہے تو پھر آنحضرت کی محبت کا جوش کیوں مسلمان کے دل میں موجزن نہ ہو گا۔درود بھی درد سے ہی نکلا ہوا ہے یعنی خاص درد سوز و گداز اور رقت سے خدا کے حضور التجا کرنی کہ اے مولا ! تو ہی ہماری طرف سے خاص خاص انعامات اور مدارج آنحضرت کو عطا کر۔ہم کرہی کیا سکتے ہیں اور کس طرح سے آپ کے احسانات کا بدلہ دے سکتے ہیں بجز اس کے کہ تیرے ہی حضور میں التجا کریں کہ تو ہی آپ کو ان سچی محنتوں اور جانفشانیوں کا سچا بدلہ جو تو نے آپ کے واسطے مقرر فرما رکھا ہے اور وعدہ کر رکھا ہے، وہ آپ کو عطا فرما۔انسان جب اس خاص رقت اور حضور قلب اور تڑپ سے گداز ہو ہو کر آپ کے واسطے دعائیں کرتا ہے تو آنحضرت کے مدارج میں ترقی ہوتی ہے اور خاص رحمت کا نزول ہوتا ہے اور پھر اس دعا گو درود خواں کے واسطے بھی اوپر سے رحمت کا نزول ہوتا ہے اور ایک درود کے بدلے دس گنا اجر اسے دیا جاتا ہے۔کیونکہ آنحضرت کی روح اس درود خواں اور آپ کی ترقی مدارج کے خواہاں سے خوش ہوتی ہے اور اس خوشی کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ اس کو دس گنا اجر عطا کیا جاتا ہے۔انبیاء کسی کا احسان اپنے ذمے نہیں رکھتے۔فقط۔الحکم جلد ۱۲ نمبر ۲۴-۰-۱۲ اپریل ۱۹۰۸ء صفحه ۳-۴) ⭑-⭑-⭑-⭑۔