خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 303 of 703

خطبات نور — Page 303

303 توبہ کی توفیق مل جاوے اور دوسرا اپنے کبر کی وجہ سے راندہ درگاہ اور ہلاک ہو جاوے۔بعض بدیاں حبط اعمال کا موجب ہو جاتی ہیں او بعض اعمال جہنم میں لے جاتے ہیں۔تمام صالحین کے واسطے دعائیں کرتے رہنا چاہئے۔ان کے احسانات اسلام اور مسلمانوں پر بہت کثرت سے ہیں۔غور کا مقام ہے کہ انہوں نے یہ دین اور یہ کتاب یہ سنت یہ نماز و روزہ ہم تک پہنچانے کے واسطے کس طرح اپنی جانیں خرچ کر دیں۔خون پانی کی طرح بہا دیئے۔اپنے نفسوں پر آرام اور نیند حرام کرلی۔کتنے بڑے بڑے سفر پا پیادہ اس مشکلات کے زمانہ میں کئے۔ایک ایک حدیث کی تحقیقات اور اس کے راوی کے منہ سے سننے کے واسطے سینکڑوں کوسوں کے ناقابل گزر اور دشوار گزار سفر انہوں نے کئے۔پس ان کے احسانات ان کی مساعی جمیلہ کوششوں محنتوں اور جانفشانیوں کو نظر کے سامنے رکھ کر ان کے واسطے دردمند دل سے تڑپ تڑپ کر دعائیں کرو۔اگر ان کی ایسی محنتیں اور کوششیں نہ ہو تیں اور وہ بھی ہماری طرح سست اور کاہل ہوتے تو غور کرو کہ کیا اسلام موجودہ حالت میں ہو سکتا تھا اور ہم مسلمان کہلانے کے مستحق ہو سکتے تھے؟ ہرگز نہیں۔پس ان کے واسطے دعائیں کرنا اور نماز میں ان کے حقوق ادا کرنے کا جزو ہونا بھی لازمی اور ضروری تھا بلکہ از بس ضروری تھا۔کیونکہ مَن لَّمْ يَشْكُرِ النَّاسَ لَمْ يَشْكُرِ اللَّهَ کتاب الادب)۔خلاصہ یہ کہ حق تعالیٰ سبحانہ کی عبادت کرنے والا اور اس کے مقابلہ میں کسی دوسرے کی پرواہ نہ کرنے والا ہونا اور پھر نبوت اور کتب پر ایمان لانے والا بننا چاہئے۔خطبہ ثانیہ (ابودائود۔اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَّ عَلَى الِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَ عَلَى الِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ - اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَّ عَلَى الِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ - یہ الفاظ جو ہم نماز میں پڑھتے ہیں ان کا نام ہے درود۔واقع میں اگر ہم اللہ کے پورے بندے اور عابد اور تعظیم کرنے والے ہیں اور مخلوق پر شفقت اور رحم کرنے والے علوم اور عقائد سے خوشحال ہوں تو سب فیضان اور احسان حقیقت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا ہے۔آپ کے دل کے درد اور جوش نہ ہوتے تو قرآن کریم جیسی پاک کتاب کا نزول کیسے ہوتا۔آپ کی مہربانیاں اور توجہات اور محنتیں اور تکالیف شاقہ نہ ہوتے تو یہ پاک دین ہم تک کیسے پہنچ سکتا۔آپ نے یہ دین ہم تک پہنچانے کی غرض سے خون کی ندیاں بہا دیں اور ہمدردی خلق کے لئے اپنی جان کو جو کھوں میں ڈالا۔تو پھر غور کا مقام ہے