خطبات نور — Page 305
۲۰ مارچ ۱۹۰۸ء 305 خطبہ جمعہ تشہد و تعوذ کے بعد آپ نے مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت فرمائی۔ياَيُّهَا الَّذِيْنَ امَنُوا اتَّقُوا اللهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلاَ تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ - وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَ لَا تَفَرَّقُوا وَاذْكُرُوا نِعْمَةَ اللهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنْتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَاصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا وَكُنتُمْ عَلَى شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَأَنْقَذَكُمْ مِنْهَا كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ (ال عمران:۱۰۳ - ۱۰۳)- اور پھر فرمایا:۔قرآن کریم کی ان آیات میں اصل الاصول اس آخری فیضان کا جو آخری حد اور کمال پر پہنچا ہوا ہو بیان کیا گیا ہے۔نیکی کا نتیجہ خدا کا فیضان ہوتا ہے۔سو ان آیات میں نیکی اور پھر اس کے فیضان کے اصل الاصول کا بیان ہے۔اللہ تعالیٰ ایمان کے بابرکت بنانے کے واسطے انسان کو یوں خطاب کرتا ہے کہ تقویٰ کرو اور تقویٰ بھی