خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 192 of 703

خطبات نور — Page 192

ہوتا۔سم 192 اس بارہ میں میں خود تجربہ کار ہوں۔کتابوں کو جمع کرنے اور ان کے پڑھنے کا شوق جنون کی حد تک پہنچا ہوا ہے۔میرے مخلص احباب نے بسا اوقات میری حالت صحت کو دیکھ کر مجھے مطالعہ سے باز رہنے کے مشورے دئے مگر میں اس شوق کی وجہ سے ان کے دردمند مشوروں کو عملی طور پر اس بارہ میں مان نہیں سکا۔میں نے دیکھا ہے کہ ہزاروں ہزار کتابیں پڑھ لینے کے بعد بھی وہ راہ جس سے مولیٰ کریم راضی ہو جاوے اس کے فضل اور مامور کی اطاعت کے بغیر نہیں ملتی۔ان کتابوں کے پڑھ لینے اور ان پر ناز کر لینے کا آخری ڈپلومہ کیا ہو سکتا ہے۔یہی کہ فَرِحُوا بِمَا عِنْدَهُمْ مِنَ الْعِلْمِ (المومن : ۸۴) میرے ایک شیخ تھے۔وہ فرمایا کرتے تھے کہ غَايَةُ الْعِلْمِ حَيْرَةٌ۔غرض وہ بات جو خدا تعالیٰ کو پسند ہے جس سے وہ راضی ہو تا اور اپنے فضلوں سے انسان کو بہرہ مند کرتا ہے وہ نہ بہت باتوں سے مل سکتی ہے نہ بہت کتابوں کے پڑھنے سے۔بلکہ وہ بات تعلق رکھتی ہے دل سے۔وہ اس کی ایک کیفیت ہے جس کو عام الفاظ میں وفاداری، اخلاص اور صدق کہہ سکتے ہیں۔اور یہ کیفیت پیدا ہوتی ہے ماموروں کی اطاعت سے اور کچی پیروی ہے۔قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ (ال عمران:۳۳) خدا تعالیٰ نے خود فیصلہ کر دیا ہے۔اس فیصلہ کے بعد اور کیا چاہتے ہو۔فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلَالُ (یونس:۳۳) ابراہیم علیہ الصلوۃ و السلام جس کی نسل سے ہونے کا آج سب سلطنتیں فخر کرتی ہیں اس نے اس راہ کو اختیار کیا۔اس نے صدق دل سے اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ (البقرۃ:۳۲) کہا اور اسی ایک امر کی اولاد کو وصیت کی۔نتیجہ کیا ہوا؟ خدا تعالیٰ نے اسے ایسا معزز و مکرم بنایا کہ اس کی اولاد کی گنتی تک نہیں ہو سکتی۔وہ بادشاہ جو اس کے مقابلہ میں اٹھا آج کوئی اس کا نام تک بھی نہیں جانتا۔یقیناً سمجھو اللہ تعالیٰ کسی کا احسان اپنے ذمہ نہیں رکھتا۔وہ اس سے ہزاروں لاکھوں گنا زیادہ دے دیتا ہے جس قدر کوئی خدا کے لئے دیتا ہے۔دیکھو! ابو بکر رضی اللہ عنہ نے مکہ میں ایک معمولی کوٹھا چھوڑا تھا لیکن خدا تعالیٰ نے اس کی کس قدر قدر کی۔اس کے بدلہ میں اسے ایک سلطنت کا مالک بنا دیا۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایک اونٹ چرانے والے کو کس وسیع ملک کا خلیفہ بنایا۔جناب علی نے خدمت کی۔اس کی اولاد تک کو مخدوم بنا دیا۔غرض میں دیکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے حضور صدق و اخلاص سے چھوٹی سے چھوٹی خدمت بھی ہزاروں گنا بدلہ پاتی ہے۔وہ تھوڑی سی بات کا بہت بڑا اجر دے دیتا ہے۔پھر جو اس کے ساتھ سچا رشتہ عبودیت قائم کرتا ہے، اس کے عظمت و جلال سے ڈر جاتا ہے دین کو دنیا پر مقدم