خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 191 of 703

خطبات نور — Page 191

191 جہاں تک تم سے ہو سکے سعی کرو اور خدا تعالیٰ سے توفیق مانگو کہ وہ تمہیں سوء ظنی سے محفوظ رکھے۔پھر اس کے بدنتائج غیبت دروغ گوئی ، دوسرے کی تحقیر، بہتان وغیرہ سے بچائے۔غرض خدا تعالیٰ کے ماموروں اور ان فیوضات و برکات سے محروم رکھنے کے اسباب مختصر طور پر یہ ہیں۔اباء، تکبر، اللہ تعالیٰ کے ساتھ وعدہ اور پھر اس کی خلاف ورزی، پھر جھوٹ۔دیکھو تم جو احمدی کہلاتے ہو تمہاری ذمہ داری بہت بڑھی ہوئی ہے۔تم نے وعدہ کیا ہے کہ دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا۔تمہیں ہر وقت یہ وعدہ نصب العین رہنا چاہئے۔کیسی وعدہ خلافی ہے کہ دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا وعدہ ہوا اور پھر سنتے ہی سوء ظنی پیدا ہو۔اس کی ذرا بھی پروا نہ ہو کہ إِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيْثِ۔میں سچ کہتا ہوں کہ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل دستگیری نہ کرے تو ایسے لوگ جو سوء ظنی کے مرض میں گرفتار ہیں وہ خودان سوء ظنیوں کا نشانہ ہو کر مرتے ہیں۔پس خدا سے ڈرو اور اپنے اس وعدہ کا لحاظ کرو جو تم نے خدا کے مامور کے ہاتھ پر کیا ہے کہ دین کو دنیا پر مقدم کروں گا۔انسان چاہتا ہے کہ دنیا میں معزز اور محترم بنے لیکن حقیقی عزت اور کچی تکریم خدا تعالیٰ سے آتی ہے۔وہی ہے جس کی یہ شان ہے تُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَ تُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ (ال عمران (۲۷) اور پھر حقیقی عزت انبیاء ورسل اور ان کے بچے اتباع کو دی جاتی ہے۔وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ (المنافقون») ساری کی ساری عزتیں اللہ اور اس کے رسول کے لئے ہیں اور بچے مومنوں کے لئے ہیں۔ابراہیم علیہ السلام اسلام کی وجہ سے دنیا میں معزز اور مکرم ہوئے۔إِذْ قَالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمْ قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ (البقرة: ۳۲) پھر وہ ابراہیم الَّذِي وَفَى (النجم:۳۸) جس نے خدا تعالیٰ کے ساتھ صدق و وفا کا پورا نمونہ دکھایا۔إِذْ جَاءَ رَبَّهُ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ (الصافات: ۸۵٬۸۴) پس اس سے نتیجہ نکال لو کہ اللہ تعالیٰ تم سے کیا چاہتا ہے۔کچی فرمانبرداری، صدق و وفاداری اور قلب سلیم۔ان باتوں کے ساتھ وہ راضی ہوتا ہے۔یہی باتیں ہیں جو اسلام تم کو سکھاتا ہے۔انہیں کے احیاء کے لئے اس وقت خدا تعالیٰ نے تم میں اپنا مہدی اور مسیح نازل کیا ہے۔ایسے دین میں ہو کر محرومی کے اسباب سے بچو۔ان اسباب کا علم قرآن مجید میں موجود ہے جو قرآن شریف پر تدبر کرنے سے آتا ہے اور اس کے ساتھ تقویٰ کی بھی شرط ہے۔میں سچ کہتا ہوں کہ یہ باتیں درس تدریس سے نہیں آتیں۔یہ علوم جو قرآن مجید میں بیان ہوئے ہیں درس تدریس سے آہی نہیں سکتے بلکہ وہ تقویٰ اور محض تقویٰ سے ملتے ہیں۔وَاتَّقُوا اللَّهَ وَيُعَلِّمُكُمُ اللهُ (البقره: ۳۸۳) اگر محض درس تدریس سے آسکتے تو پھر قرآن مجید میں مَثَلُ الَّذِينَ حُمِلُوا التَّوْرَاةَ ثُمَّ لَمْ يَحْمِلُوْهَا كَمَثَلِ الْحِمَارِ (الجمعه) کیوں