خطبات نور — Page 145
145 راہ روزہ سکھاتا ہے اور اس کی حقیقت یہی ہے کہ انسان متقی بننا سیکھ لیوے۔آجکل تو دن چھوٹے ہیں۔سردی کا موسم ہے اور ماہ رمضان بہت آسانی سے گذرا۔مگر گرمی میں جو لوگ روزہ رکھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ بھوک پیاس کا کیا حال ہوتا ہے اور جوانوں کو اس بات کا علم ہوتا ہے کہ ان کو بیوی کی کس قدر ضرورت پیش آتی ہے۔جب گرمی کے موسم میں انسان کو پیاس لگتی ہے۔ہونٹ خشک ہوتے ہیں۔گھر میں دودھ ، برف، مزہ دار شربت موجود ہیں مگر ایک روزہ دار ان کو نہیں پیتا۔کیوں؟ اس لئے کہ اس کے مولا کریم کی اجازت نہیں کہ ان کو استعمال کرے۔بھوک لگتی ہے۔ہر ایک قسم کی نعمت زردہ پلاؤ قلیہ ، قورمہ، فرنی وغیرہ گھر میں موجود ہیں۔اگر نہ ہوں تو ایک آن میں اشارہ سے طیار ہو سکتے ہیں مگر روزہ دار ان کی طرف ہاتھ نہیں بڑھاتا۔کیوں؟ صرف اس لئے کہ اس کے موٹی کریم کی اجازت نہیں۔شہوت کے زور سے بیٹھے پھٹے جاتے ہیں اور اس کی طبیعت میں سخت اضطراب جماع کا ہوتا ہے۔بیوی بھی حسین نوجوان اور صحیح القومی موجود ہے۔مگر روزہ دار اس کے نزدیک نہیں جاتا۔کیوں؟ صرف اس لئے کہ وہ مانتا ہے کہ اگر جاؤں گا تو خدا تعالیٰ ناراض ہو گا۔اس کی عدول حکمی ہو گی۔ان باتوں سے روزہ کی حقیقت ظاہر ہے کہ جب انسان اپنے نفس پر یہ تسلط پیدا کر لیتا ہے کہ گھر میں اس کی ضرورت اور استعمال کی چیزیں موجود ہیں مگر اپنے مولا کی رضا کے لئے وہ حسب تقاضائے نفس ان کو استعمال نہیں کرتا تو جو اشیاء اس کو میسر نہیں ان کی طرف نفس کو کیوں راغب ہونے دے گا؟ رمضان شریف کے مہینہ کی بڑی بھاری تعلیم یہ ہے کہ کیسی ہی شدید ضرورتیں کیوں نہ ہوں مگر خدا کا ماننے والا خدا ہی کی رضامندی کے لئے ان سب پر پانی پھیر دیتا ہے اور ان کی پروا نہیں کرتا۔قرآن شریف روزہ کی حقیقت اور فلاسفی کی طرف خود اشارہ فرماتا ہے۔کہتا ہے۔یايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصَّيَامَ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ (البقره: ۱۸۴) روزہ تمہارے لئے اس واسطے ہے کہ تقویٰ سیکھنے کی تم کو عادت پڑ جاوے۔ایک روزہ دار خدا کے لئے ان تمام چیزوں کو ایک وقت ترک کرتا ہے جن کو شریعت نے حلال قرار دیا ہے اور ان کے کھانے پینے کی اجازت دی ہے۔صرف اس لئے کہ اس وقت میرے مولا کی اجازت نہیں۔تو یہ کیسے ممکن ہے کہ پھر وہی شخص ان چیزوں کے حاصل کرنے کی کوشش کرے جن کی شریعت نے مطلق اجازت نہیں دی اور وہ حرام کھاوے، پیوے اور بد کاری میں شہوت کو پورا کرے۔تقویٰ کے لئے ایک جزو ایمان یہ ہے کہ آپس میں ایک دوسرے کا مال مت کھایا کرو۔