خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 146 of 703

خطبات نور — Page 146

حرام خوری کے اقسام 146 حرام خوری اور مال بالباطل کا کھانا کئی قسم کا ہوتا ہے۔ایک نو کر اپنے آقا سے پوری تنخواہ لیتا ہے۔مگر وہ اپنا کام سستی یا غفلت سے آقا کی منشاء کے موافق نہیں کرتا تو وہ حرام کھاتا ہے۔ایک دوکاندار یا پیشہ ور خریدار کو دھوکا دیتا ہے۔اسے چیز کم یا کھوئی حوالہ کرتا ہے اور مول پورا لیتا ہے۔تو وہ اپنے نفس میں غور کرے کہ اگر کوئی اسی طرح کا معاملہ اس سے کرے اور اسے معلوم بھی ہو کہ میرے ساتھ دھوکا ہوا تو کیا وہ اسے پسند کرے گا؟ ہرگز نہیں۔جب وہ اس دھو کا کو اپنے خریدار کے لئے پسند کرتا ہے تو وہ مال بالباطل کھاتا ہے۔اس کے کاروبار میں ہر گز برکت نہ ہوگی۔پھر ایک شخص محنت اور مشقت سے مال کماتا ہے مگر دوسرا ظلم (یعنی رشوت، دھوکا، فریب) سے اس سے لینا چاہتا ہے تو یہ مال بھی مال بالباطل لیتا ہے۔ایک طبیب ہے۔اس کے پاس مریض آتا ہے اور محنت اور مشقت سے جو اس نے کمائی کی ہے اس میں سے بطور نذرانہ کے طبیب کو دیتا ہے یا ایک عطار سے وہ دوا خریدتا ہے تو اگر طبیب اس کی طرف توجہ نہیں کرتا اور تشخیص کے لئے اس کا دل نہیں تڑپتا اور عطار عمدہ دوا نہیں دیتا اور جو کچھ اسے نقد مل گیا اسے نقیمت خیال کرتا ہے یا پرانی دوائیں دیتا ہے کہ جن کی تاثیرات زائل ہو گئی ہیں تو یہ سب مال بالباطل کھانے والے ہیں۔غرضیکہ سب پیشہ ور حتی کہ چوڑھے چمار بھی سوچیں کہ کیا وہ اس امر کو پسند کرتے ہیں کہ ان کی ضرورتوں پر ان کو دھوکا دیا جائے۔اگر وہ پسند نہیں کرتے تو پھر دوسرے کے ساتھ خود وہی ناجائز حرکت کیوں کرتے ہیں۔روزہ ایک ایسی شے ہے جو ان تمام بری عادتوں اور خیالوں سے انسان کو روکنے کی تعلیم دیتا ہے اور تقویٰ حاصل کرنے کی مشق سکھاتا ہے۔جو شخص کسی کا مال لیتا ہے وہ مال دینے والے کی اغراض کو ہمیشہ مد نظر رکھ کر مال لیوے اور اسی کے مطابق اسے شے دیوے۔روزہ سے قرب الہی حاصل ہوتا ہے۔روزہ جیسے تقویٰ سیکھنے کا ایک ذریعہ ہے ویسے ہی قرب الہی حاصل کرنے کا بھی ذریعہ ہے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ماہ رمضان کا ذکر فرماتے ہوئے ساتھ ہی یہ بھی بیان کیا ہے۔وَ إِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ (البقرہ:۱۸۷)۔