خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 144 of 703

خطبات نور — Page 144

۲۱ دسمبر ۱۹۰۳ء / 144 خطبہ عید الفطر اَشْهَدُ اَنْ لا إِلهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ وَ اَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ - امَّا بَعْدُ يَسْتَلُونَكَ عَنِ الْأَهِلَّةِ قُلْ هِيَ مَوَاقِيتُ لِلنَّاسِ وَ الْحَج وَلَيْسَ الْبِرُّ بِأَنْ تَأْتُوا البيوت مِنْ ظُهُورِهَا وَ لَكِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقَى وَآتُوا البيوتَ مِنْ أَبْوَابِهَا وَاتَّقُوا اللهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (البقره: ١٩٠) یہ رکوع جس کا میں نے ابتداء پڑھا ہے، اس رکوع کے بعد ہے جس میں رمضان اور روزہ کا تذکرہ ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کو نیک اعمال کے بجالانے کی کیسی محبت تھی اور کلام اور اس کی اصلی بات پر آگاہی پانے کا کس قدر شوق تھا۔روزہ کی حقیقت یہ ہے کہ اس سے نفس پر قابو حاصل ہوتا ہے اور انسان متقی بن جاتا ہے۔رکوع میں رمضان شریف کے متعلق یہ بات مذکور ہے کہ انسان کو جو ضرورتیں پیش آتی ہیں ان میں سے بعض تو شخصی ہوتی ہیں اور بعض نوعی۔اور بقائے نسل کی مخصی ضرورتوں میں جیسے کھانا پینا ہے اور نوعی ضرورت جیسے نسل کے لئے بیوی سے تعلق۔ان دونوں قسم کی طبعی ضرورتوں پر قدرت حاصل کرنے کی