خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 97 of 703

خطبات نور — Page 97

97 آگاہی بخشنے کے واسطے آتا ہے تو ایک کمزور انسان تو ساری دنیا کو دیکھتا ہے کہ کس رنگ میں رنگین اور کس دھن میں لگی ہوئی ہے اور اس مامور کی طرف دیکھتا ہے کہ وہ سب سے الگ اور سب کے خلاف کہتا ہے۔کل دنیا کے چال چلن پر اعتراض کرتا ہے۔نہ کسی کے عقائد کی پروا کرتا ہے نہ اعمال کا لحاظ۔صاف کہتا ہے کہ تم بے ایمان ہو اور نہ صرف تم بلکہ ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ (الروم:۳۳) سارے دریاؤں، جنگلوں ، بیابانوں، پہاڑوں اور سمندروں اور جزائر غرض ہر حصہ دنیا پر فساد مچا ہوا ہے۔تمہارے عقائد صحیح نہیں۔اعمال درست نہیں۔علم بودے ہیں۔اعمال نا پسند ہیں۔قومی اللہ تعالیٰ سے دور ہو کر کمزور ہو چکے ہیں۔کیوں؟ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِى النَّاسِ (الروم:۳۲) تمہاری اپنی ہی کرتوتوں سے۔پھر کہتا ہے دیکھو میں ایک ہی شخص ہوں اور اس لئے آیا ہوں کہ لِيُذِيقَهُمْ بَعْضَ الَّذِي عَمِلُوا (الروم:۴) لوگوں کو ان کی بد کرتوتوں کا مزہ چکھا دیا جاوے۔بہت سی مخلوق اس وقت ایسی ہوتی ہے کہ ان کے عدم اور وجود کو برابر سمجھتی ہے اور بہت سے ایسے ہوتے ہیں کہ بالکل غفلت ہی میں ہوتے ہیں۔انھیں کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ کیا ہو رہا ہے؟ اور کچھ مقابلہ و انکار پر کھڑے ہو جاتے ہیں۔اور کچھ ایسے ہوتے ہیں جن میں اللہ تعالیٰ اپنی عظمت و جبروت دکھانا چاہتا ہے۔وہ ان لوگوں کے مقابلہ میں جو مال و دولت کنبہ اور دوستوں کے لحاظ سے بہت ہی کمزور اور ضعیف ہوتے ہیں۔بڑے بڑے رؤسا اور اہل تدبیرلوگوں کے مقابلہ میں ان کی کچھ ہستی ہی نہیں ہوتی۔یہ اس مامور کے ساتھ ہو لیتے ہیں۔ایسا کیوں ہوتا ہے؟ یعنی ضعفاء سب سے پہلے ماننے والے کیوں ہوتے ہیں؟ اس لیے کہ اگر وہ اہل دول مان لیں تو ممکن ہے خود ہی کہہ دیں کہ ہمارے ایمان لانے کا نتیجہ کیا ہوا؟ دولت کو دیکھتے ہیں، املاک پر نگاہ کرتے ہیں، اپنے اعوان و انصار کو دیکھتے ہیں تو ہر بات میں اپنے آپ کو کمال تک پہنچا ہوا دیکھتے ہیں اس لئے خدا کی عظمت و جبروت اور ربوبیت کا ان کو علم نہیں آسکتا۔لیکن جب ان ضعفاء کو جو دنیوی اور مادی اسباب کے لحاظ سے تباہ ہونے کے قابل ہوں عظیم الشان انسان بنا دے اور ان رؤسا اور اہل دول کو ان کے سامنے تباہ اور ہلاک کر دے تو اس کی عظمت و جلال کی چمکار صاف نظر آتی ہے۔غرض یہ سر ہوتا ہے کہ اول ضعفاء ہی ایمان لاتے ہیں۔اس دبدھا کے وقت جبکہ ہر طرف سے شور مخالفت بلند ہوتا ہے خصوصاً بڑے لوگ سخت مخالفت پر اٹھے ہوئے ہوتے ہیں کچھ آدمی ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے چن لیتا ہے اور وہ اس راستباز کی اطاعت کو نجات کے لئے غنیمت اور مرنے کے بعد قرب الہی کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔اور بہت سے مخالفت کے لئے اٹھتے ہیں جو اپنی مخالفت کو انتہا تک پہنچاتے ہیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کی نصرت