خطبات نور — Page 98
98 اور مدد آجاتی ہے اور زمین سے آسمان سے دائیں سے بائیں سے غرض ہر طرف سے نصرت آتی ہے اور ایک جماعت تیار ہونے لگتی ہے۔اس وقت وہ لوگ جو بالکل غفلت میں ہوتے ہیں اور وہ بھی جو پہلے عدم و وجود مساوی سمجھتے ہیں آآکر شامل ہونے لگتے ہیں۔وہ لوگ جو سب سے پہلے ضعف و ناتوانی اور مخالفت شدیدہ کی حالت میں آکر شریک ہوتے ہیں ان کا نام سابقین اولین مہاجرین اور انصار رکھا گیا۔مگر ایسے فتوحات اور نصرتوں کے وقت جو آکر شریک ہوئے ان کا نام ”ناس" رکھا ہے۔یاد رکھو جو پودا اللہ تعالی لگاتا ہے اس کی حفاظت بھی فرماتا ہے یہاں تک کہ وہ دنیا کو اپنا پھل دینے لگتا ہے لیکن جو پورا احکم الحاکمین کے خلاف اس کے منشاء کے موافق نہ ہو اس کی خواہ کتنی ہی حفاظت کی جاوے وہ آخر خشک ہو کر تباہ ہو جاتا ہے اور ایندھن کی جگہ جلایا جاتا ہے۔پس وہ لوگ بہت ہی خوش قسمت ہیں جن کو عاقبت اندیشی کا فضل عطا کیا جاتا ہے۔اس سورۃ شریفہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے انجام کو ظاہر کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ اللہ کی تسبیح کرو اس کی ستائش اور حمد کرو اور اس سے حفاظت طلب کرو۔استغفار یا حفاظت الہی طلب کرنا ایک عظیم الشان سر ہے۔انسان کی عقل تمام ذرات عالم کی محیط نہیں ہو سکتی۔اگر وہ موجودہ ضروریات کو سمجھ بھی لے تو آئندہ کے لئے کوئی فتویٰ نہیں دے سکتی۔اس وقت ہم کپڑے پہنے کھڑے ہیں۔لیکن اگر اللہ تعالیٰ ہی کی حفاظت اور فضل کے نیچے نہ ہوں اور محرقہ ہو جاوے تو یہ کپڑے جو اس وقت آرام دہ اور خوش آئند معلوم ہوتے ہیں ناگوار خاطر ہو کر موذی اور مخالف طبع ہو جادیں اور وبال جان سمجھ کر ان کو اتار دیا جاوے۔پس انسان کے علم کی تو یہ حد اور غایت ہے۔ایک وقت ایک چیز کو ضروری سمجھتا ہے اور دوسرے وقت اسے غیر ضروری قرار دیتا ہے۔اگر اسے یہ علم ہو کہ سال کے بعد اسے کیا ضرورت ہوگی، مرنے کے بعد کیا ضرورتیں پیش آئیں گی تو البتہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ بہت کچھ انتظام کر لے لیکن جب کہ قدم قدم پر اپنی لاعلمی کے باعث ٹھوکریں کھاتا ہے پھر حفاظت الہی کی ضرورت نہ سمجھنا کیسی نادانی اور حماقت ہے۔یہ صرف علم ہی تک بات محدود نہیں رہتی۔دوسرا مرحلہ تصرفات عالم کا ہے وہ اس کو مطلق نہیں۔ایک ذرہ پر اسے کوئی تصرف و اختیار نہیں۔غرض ایک بے علمی اور بے بسی تو ساتھ تھی ہی پھر بد عملیاں ظلمت کا موجب ہو جاتی ہیں۔انسان جب اولا گناہ کرتا ہے تو ابتدا میں دل پر غین ہوتا ہے پھر وہ امر بڑھ جاتا ہے اور رین کہلاتا ہے۔اس کے بعد مہر لگ جاتی ہے۔یہ چھاپا مضبوط ہو جاتا ہے۔قفل لگ جاتا ہے۔پھر یہاں تک نوبت پہنچتی ہے کہ بدی سے پیار اور نیکی سے نفرت کرتا ہے۔خیر کی تحریک ہی قلب سے اٹھ جاتی ہے۔اس کا ظہور