خطبات نور — Page 96
۳۱ جنوری ۱۹۰۲ء 96 خطبہ جمعہ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَ الْفَتْحُ - وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا - فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ اسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا - (النصر : ۲ تا ۴) یہ ایک مختصر اور چھوٹی سی سورۃ قرآن شریف کے آخری حصہ میں ہے۔مسلمانوں کے بچے علی العموم نمازوں میں اسے پڑھتے ہیں۔اس پر نظر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے اور اس کی جناب میں قدم صدق پیدا کرنے کے لئے اور اپنی عزت و آبرو کو دنیا و آخرت میں بڑھانے کے واسطے انسان کو مختلف اوقات میں مختلف موقعے ملتے ہیں۔ایک وہ وقت ہوتا ہے کہ جب دنیا میں اندھیر ہوتا ہے اور ہر قسم کی غلطیاں اور غلط کاریاں پھیلی ہوئی ہوتی ہیں۔خدا کی ذات پر شکوک ، اسماء الہیہ میں شبہات، افعال اللہ سے بے اعتنائی اور مسابقت فی الخیرات میں غفلت پھیل جاتی ہے اور ساری دنیا پر غفلت کی تاریکی چھا جاتی ہے۔اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کا کوئی برگزیدہ بندہ اہل دنیا کو خواب غفلت سے بیدار کرنے اور اپنے مولیٰ کی عظمت و جبروت دکھانے “ اسماء الہیہ و افعال اللہ سے