خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 577 of 703

خطبات نور — Page 577

577 mi 3 کرنا پڑتا ہے۔اختلاف تو بیشک ہوتے ہیں کیونکہ ہماری فطرتوں میں اختلاف ہے مگر عباد الرحمن کا طریق یہ ہے کہ وہ دنیا میں اپنی روش سکینت ، وقار کی رکھتے ہیں۔تکبر و تجر و عصیان سے کام نہیں لیتے۔بھاری بھر کم رہتے ہیں۔وہ ہر معاملہ میں صبر عاقبت اندیشی سے کام لیتے ہیں۔کیونکہ اختلافوں سے بچنے کی راہ ھون ہے۔میرا ایک استاد تھا۔۔اس نے مجھے نصیحت کی کہ دنیا میں سکھی رہنا چاہتے ہو تو اپنے تئیں ایسانہ بناؤ کہ اپنے خلاف ہونے سے گھبرا جاؤ اور دوسروں سے لڑنے لگو۔رحمن کے پرستار ، رحمن کے پیارے وہ ہیں جو سخت بات سننے پر سلامتی کی راہ اختیار کر لیتے ہیں۔دوم۔وہ رات عبادت میں گزار دیتے ہیں۔کبھی کھڑے ہو کر جناب الہی کو راضی کرتے ہیں، کبھی سجدہ میں پڑ کر۔سوم۔راتوں کو اٹھ اٹھ کر دعائیں مانگتے ہیں۔اپنے مولیٰ کے آگے گڑ گڑاتے ہیں۔چہارم۔وہ ان لوگوں کی طرح نہیں جو روپیہ ہاتھ لگنے پر جھٹ ناجائز جگہ پر خرچ کر دیتے ہیں بلکہ سوچ سمجھ کر ضرورت حقہ پر درمیانی راہ اختیار کرتے ہیں۔پنجم۔وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں جانتے اور اپنے تئیں ہلاکت میں نہیں ڈالتے اور نہ قتل کرتے ہیں۔نہ زنا کرتے ہیں کیونکہ جو ایسا کرتا ہے وہ سزا پاتا ہے۔رحمن کے پیارے تو ایسے افعال شنیعہ سے بچتے رہتے ہیں اور سنوار والے کاموں میں اپنا وقت خرچ کرتے ہیں۔دوسرے خطبہ میں فرمایا۔خطبہ ثانیہ مسلمانوں سے حمد اٹھ گیا۔وہ کبھی اپنی حالت پر راضی نہیں ہوتے اور نہ خدا کا شکر ادا کرتے ہیں۔جب سے حمد و شکر اٹھا، خدا تعالیٰ کا انعام بھی اٹھ گیا۔وہ لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ (ابراهیم) کو نہیں سمجھے۔تم اللہ تعالیٰ کی بہت حمد کیا کرو۔ہماری کتاب بھی الحمد للہ سے شروع ہوتی ہے۔ہمارے خطبے بھی الحمد سے شروع ہوتے ہیں۔اس خطبہ میں دو بار الحمد ہے الْحَمْدُ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ۔اور اس کے لئے اسی سے مدد طلب کرو اور اللہ کو ہر حال میں یاد رکھو۔وہ تمہیں یاد رکھے گا۔الفضل جلد نمبر ۴---۱۹ جولائی ۱۹۱۳ء صفحہ ۱۵)