خطبات نور — Page 557
557 کہنے لگا کہ زمانہ قدیم ہے۔میں نے کہا جب تم ماں کے پیٹ اور باپ کے نطفہ میں تھے وہ وقت اب ہے اور جب تم مرو گے وہ زمانہ اب موجود ہے؟ کہا۔نہیں۔میں نے کہ ایک موجود ہے وہ معدوم ہے۔وہ موجود ہو گا۔انسان کا جسم ایک برف کی تجارت ہے۔اسی طرح زمانہ ہے۔إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا گھاٹے میں تو سب ہیں مگر ایک شخص مستثنیٰ ہے۔وہ کون؟ ایماندار کہ اس کو گھاٹا نہیں۔ایمان کیا ہے؟ غیب الغیب ذات پر ایمان رکھنا۔اس کو مقدم سمجھنا۔اس کی نافرمانی سے ڈرنا اور یہ یقین کرنا کہ اگر ہم نافرمان ہوں تو اس پاک ذات کا قرب حاصل نہیں کر سکتے۔نماز پڑھنا اور سنوار کر پڑھنا۔لغو سے بچنا۔زکوۃ دینا۔اپنی شرمگاہوں کو محفوظ کرنا۔اپنی امانتوں اور عہود کا لحاظ کرنا۔اللہ تعالیٰ کی ذات پاک ، صفات، افعال اسماء اس کے محامد اور اس کی عبادات میں کسی کو شریک نہ کرنا۔ملائکہ کی نیک تحریک کو ماننا۔انبیاء کی باتوں اور کتابوں کو ماننا۔قرآن کریم تمام انبیاء کی پاک باتوں اور کتابوں کے مجموعہ کا خلاصہ ہے۔فِيْهَا كُتُبُ قَيِّمَةٌ (البینه: ۳) قرآن کریم سب کتابوں کا محافظ ہے۔اس میں دلائل کو اور زیادہ کر دیا ہے۔اس کتاب (قرآن کریم) کو اپنا دستور العمل بنانا اس کو پڑھنا، سمجھنا اس پر عمل کرنا خدا تعالیٰ سے توفیق مانگنا کہ اس پر خاتمہ ہو ، جزا سزا پر یقین کرنا، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خاتم کمالات نبوت و رسالت اور خاتم کمالات انسانیہ یقین کرنا۔دنیا میں جس قدر ہادی ان کے بعد آئیں گے سب انہیں کے فیض سے آئیں گے۔ہمارے مسیح آئے مگر غلام احمد ہو کر آئے۔وہ فرماتے ہیں۔بعد از خدا بعشق محمد گر کفر این بود مخترم بخدا سخت کافرم یہ حضرت صاحب کا سچا دعویٰ ہے اور اسی پر عملدرآمد تھا۔ایک نقطہ بھی دین اسلام سے علیحدہ ہونا ان کو پسند نہ تھا۔تم خدا تعالیٰ کی تعظیم کرو۔اس کی مخلوق کے ساتھ نیک سلوک کرو۔مخلوق“ کا لفظ میں نے بولا ہے۔تم ایسے بنو کہ درختوں ، پہاڑوں جانوروں سب پر تمہارے ذریعہ سے خدا تعالیٰ کا فضل نازل ہو۔، مخلوق الہی پر شفقت کرو۔انسان پر جب تباہی آتی ہے تو اس کی وجہ سے سب پر تباہی نازل ہوتی ہے۔ع از زنا افتد و با اندر جهات