خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 556 of 703

خطبات نور — Page 556

پہنچائیں۔556 یہ بڑی مختصر سورۃ ہے۔پہلی بات اس سورۃ شریفہ میں یہ ہے کہ وَالْعَصْرِ - عصر ایک زمانہ کو کہتے ہیں۔ہر آن میں پہلا زمانہ فنا اور نیا پیدا ہوتا جاتا ہے۔ہر وقت زمانہ کو فنا لگی ہوئی ہے۔کل کا دن ۲۶ دسمبر ۱۹۱۲ ء اب کبھی نہیں آئے گا۔۲۷ دسمبر ۱۹۲ آج کے بعد کبھی دنیا میں نہ آئے گا۔آج کی صبح اب کبھی نہ آئے گی۔یہ زمانہ بڑا بابرکت ہے۔یہ جو آریہ لوگ کہا کرتے ہیں کہ زمانہ مخلوق نہیں اور جو قدیم ہے وہ فنا نہیں ہوتا، وَالْعَصْرِ کا لفظ ان کے لئے خوب رد ہے۔میں جس زمانہ میں بولا وہ اب چلا بھی گیا اور جس میں آگے بولوں گا وہ ابھی پیدا بھی نہیں ہوا۔زمانہ کو غیر مخلوق ماننے والوں کے لئے کیسا عمدہ رد ہے۔زمانہ کو جہاں تک لئے جائیں ایک حصہ مرتا جاتا ہے، ایک حصہ پیدا ہوتا جاتا ہے۔اس مرنے اور پیدا ہونے کے سوا اور کچھ بھی نہیں۔ایک فائدہ عصر میں یہ ہے کہ ہر ایک وقت جو انسان پر گزرتا ہے اس کو فنالازم ہے۔اسی طرح انسان کے اجزا بھی ہر آن میں فنا ہوتے ہیں اور ہر آن نئے اجزاء پیدا ہوتے ہیں۔اس طرح ایک نئی مخلوق بن کر انسان اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہوتا ہے۔جب میں جوان تھا میرے سب بال سیاہ تھے۔آج کوئی بال سیاہ نہیں۔جب ہم نئی حالت میں تبدیل ہوتے رہتے ہیں تو ہر وقت اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں۔ALA ALI AND A اللہ کے معنی ہیں کہ ہر آن میں تم ہمارے محتاج ہو۔اگر میرا فضل و کرم نہ ہو تو تم کچھ بھی نہیں۔ایک بات عصر میں یہ ہے کہ لوگ زمانہ کو برا کہتے ہیں۔شاعروں نے تو یہ غضب کیا کہ دنیا کا ہر ایک دکھ اور مصیبت زمانہ کے سر تھوپ دیا۔خدا تعالیٰ کا نام ہی درمیان سے نکال دیا۔گردش روزگار کی اس قدر شکایت کی ہے کہ جس کی حد نہیں۔گویا ان کا دار ومدار ان کا نافع اور ضار سب کچھ زمانہ ہی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے زمانہ کی شکایت نہ کرو۔یہ بھی قابل قدر چیز ہے۔عصر کے بعد پھر کوئی وقت نہیں ہو تا جو ہم فرض نماز ادا کریں۔میرا یقین ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد غرض ہے کہ اب قرآن شریف جیسی کتاب اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جیسا رسول جس کے جانشین ہمیشہ ہوتے رہیں گے اب دنیا میں نہ آئے گا۔عصر سے مراد حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جانشینوں کا زمانہ ہے۔اب اور کے لئے زمانہ نہیں رہا یہاں تک کہ دنیا کا زمانہ ختم ہو۔إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِنی محشر جس طرح زمانہ گھانے میں ہے اسی طرح انسان۔ایک شخص مجھ سے