خطبات نور — Page 558
558 جناب الہی نے جس طرح حکم دیا اس پر عمل کرو۔گھاٹ پر پاخانہ پھرنے سے درختوں کے نیچے اور راستوں پر پاخانہ پھرنے سے ہماری شریعت نے منع فرمایا ہے۔ایمان کے ساتھ اعمال بھی نیک ہوں۔جس میں بگاڑ ہے وہ خدائے تعالی کا پسندیدہ کام نہیں۔پھر ان کچے علوم کو میری زبان سے تم نے کچھ سنا ہے۔اپنے گزشتہ امام سے سنا ہے اور اس کی پاک تصانیف میں دیکھا ہے۔وَتَوَاصَوابِ الْحَقِّ پاک تعلیم یعنی حق کو دوسری جگہ پہنچاؤ۔بہت سے لوگ ہم سے ملنا چاہتے ہیں اور ہم سے محبت اور اخلاص چاہتے ہیں مگر ایمان کے حاصل کرنے اور ایمان کے مطابق سنوار کے کام کرنے اور پھر دوسروں تک پہنچانے میں متامل ہیں۔بہت سے لوگ یہاں بھی آئے ہیں اور مجھ سے ملے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر آپ ہم سے بالکل مل جائیں تو ہم آپ کے ہو جاتے ہیں۔میں نے کہا ہماری تعلیم پر عمل کرو گے ؟ تو کہتے ہیں تعلیم تو ہماری آپ کی ایک ہی ہے۔میں نے کہا جب کہ تم ہماری تعلیم پر عمل کرنے سے جی چراتے ہو تو پھر ہم تم ایک کیسے ہو سکتے ہیں؟ یہ سن کر شرمندہ ہو کر رہ جاتے ہیں۔یہ سب کے سب منافق طبع لوگ ہوتے ہیں۔ایسے منافق بہت ہیں۔یہ سب ہم کو دھوکا دینا چاہتے ہیں۔تم حق کو پہنچاؤ اور حق کے پہنچانے میں علم و حکمت اور عاقبت اندیشی سے کام لو۔جو عاقبت اندیشی سے کام نہیں لیتے وہ بعض اوقات ایسے الفاظ کہہ دیتے ہیں جن سے بڑا نقصان ہوتا ہے۔کسی شخص نے مجھ کو خط لکھا کہ میں نے ایک شخص سے کہا کہ مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ میں میرے لئے دعا کرنا۔احمدی نے سن کر کہا کہ مکہ مدینہ کا کیا کوئی الگ خدا ہے؟ اس پر اس شخص کو بڑا ابتلا پیش آیا۔اگر نرمی سے کہا جاتا تو نتیجہ خطرناک نہ ہوتا۔اس طرح کہ ملکہ مدینہ بیشک قبولیت دعا کے مقام ہیں۔پھر کہتا ہوں کہ خدا یہاں بھی ہے وہاں بھی ہے۔تم دونوں جگہ دعا مانگو یعنی یہاں بھی دعا ضرور مانگو۔خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے میرے خسر سے کہا تھا کہ میرے لئے عرفات میں دعا کرنا۔میرے خسر کا بیٹا جو ان کے ہمراہ حج میں موجود تھا اب موجود ہے وہ کہتا ہے کہ ہمارے باپ نے عرفات میں دعا مانگی اور میں آمین آمین کہتا جاتا تھا۔مگر انسان سے اس قسم کی غلطیاں ہو جاتی ہیں۔ان غلطیوں کے دور کرنے کے لئے میں نے کہا تھا کہ میں تین مہینہ میں قرآن شریف پڑھا سکتا ہوں بشرطیکہ پانچ سات آدمیوں کی ایک جماعت ہو۔قرآن کے لئے بھی دعا مانگنی چاہئے۔وَاتَّقُوا اللهَ وَيُعَلِّمُكُمُ اللهُ (البقرة :۲۸۴) جو تقویٰ اختیار کرتا ہے اس کو خدا سکھاتا ہے۔قرآن پڑھو۔سیکھو۔اس کے علم میں ترقی کرو۔اس پر عمل کرو۔قرآن سے تم کو محبت ہو۔وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ حق کے پہنچانے میں کچھ تکلیف ضرور ہوتی ہے۔اس تکلیف کو برداشت