خطبات نور — Page 503
503 سب سے بڑا مسئلہ جو انسان کو نیکیوں کی طرف توجہ دلاتا ہے وہ جزا و سزا کا مسئلہ ہے۔اگر شریف الطبع انسان کو معلوم ہو کہ اس کام کے کرنے سے میری بہتک ہو گی یا مجھے نقصان پہنچے گا تو وہ کبھی اس کے قریب نہیں پھٹکتا بلکہ ہر فعل میں نگرانی کرتا ہے۔مختلف طبائع کے لوگ اپنے مالک کے اسماء صفات کے علم اور جزاء سزا کے مسئلہ پر یقین کرنے سے نیکیوں کی طرف توجہ کرتے اور بد اعمالیوں سے رکتے ہیں۔چنانچہ ملک عرب میں شراب کثرت سے پی جاتی اور اَلْخَمْرُ حَمَاءُ الْإِثْمِ صحیح بات ہے۔پھر فرمایا النِّسَاءُ حَبَائِلُ الشَّيْطَانِ۔سوم ملک میں کوئی قانون نہیں تھا۔ایسا اندھیر پڑا ہوا تھا۔جن سعادتمندوں نے نبی کریم میں اللہ کے ارشاد پر عمل کیا وہ پہلے بے خانماں تھے پھر بادشاہ ہو گئے۔خشن پوش تھے حریر پوش بن سکتے۔نہ مفتوح تھے نہ فاتح اگر اس اطاعت کی بدولت دنیا میں فاتح قوموں کے امام خلفائے راشدین اور اعلیٰ مرتبت سلاطین کہلائے۔یہ سب اس کتاب کی برکت تھی جسے اللہ نے ایسی اندھیری رات میں جسے لیلۃ القدر سے تعبیر کیا گیا ہے اپنے بندے پر نازل کیا۔جیسا کہ خدا تعالیٰ نے ایسے ہی حالات میں ہم میں ایک مجدد کو بھیجا۔نبی کریم ملی کے زمانہ میں شرک کا زور تھا۔سو اس کی تردید میں آپ نے پوری کوشش فرمائی۔قرآن مجید کا کوئی رکوع شرک کی تردید سے خالی نہیں۔اس زمانے میں لوگوں میں یہ مرض عام تھا کہ دنیا پر ستی غالب ہے، دین کی پروا نہیں۔اس لئے آپ نے بیعت میں یہ عہد لینا شروع کیا کہ میں دین کو دنیا پر مقدم کروں گا۔کیونکہ دنیا پرستی کا یہ حال ہے کہ جیسے چوہڑے کا چھرا حلال حرام جانور دونوں پر یکساں چلتا ہے، اسی طرح لوگوں کی فکر اور عقل حرام حلال کمائی کے حصول پر ہر وقت لگی رہتی ہے۔فریب سے ملے، دعا سے ملے، چوری سے ملے، سینہ زوری سے ملے، کسی طرح روپیہ ملے سہی۔ملازم ایک دوسرے سے تنخواہ کا سوال نہیں کرتے بلکہ پوچھتے ہیں بالائی آمدنی کیا ہے؟۔گویا اصل تنخواہ آمد میں داخل نہیں۔مسلمانوں پر ایک تو وہ وقت تھا کہ اپنی ولادت موت تک کی تاریخیں یاد اور لکھنے کا رواج تھا۔یا اب یہ حال ہے کہ لین دین شراکت تجارت ہے مگر تحریر کوئی نہیں۔اگر کوئی تحریر ہے تو ایسی بے جکم جس کا کوئی سر پیر نہیں۔نہ اختلاف کا فیصلہ ہو سکتا ہے، نہ اصل بات سمجھ آسکتی ہے۔ہمارے بھائیوں کو چاہئے کہ وہ امام کے ہاتھ پر بیعت کر چکے ہیں ”دین کو دنیا پر مقدم کروں گا۔پس وہ دنیا میں ایسے منہمک نہ ہوں کہ خدا بھول جاوے۔