خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 504 of 703

خطبات نور — Page 504

504 پھر فرمایا کہ جھوٹے قصے اپنے وعظوں میں ہرگز روایت نہ کرو نہ سنو۔مخلوق الہی کو قرآن مجید سناؤ۔ہدایت کے لئے کافی ہے۔سلیمان کی انگشتری اور بھٹیاری کا بھٹ جھونکنے کا قصہ بالکل لغو اور جھوٹ ہے۔اگر ایک پتھر میں جو جمادات سے ہے اتنا کمال ہے تو کیا ایک برگزیدہ انسان میں جو اشرف المخلوقات ہے یہ کمال نہیں ہو سکتا؟ انبیاء کی ذات میں کمال ہوتے ہیں۔اسی واسطے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ (الانعام: ۱۳۵) پس تم خوب یاد رکھو کہ انبیاء دنیا میں کبھی ذلیل نہیں ہوتے جیسے کہ سلیمان کی نسبت شیاطین نے دنیا میں مشہور کیا۔اگر دنیا میں کوئی کسی کی شکل بن سکتا ہے تو امان ہی اٹھ جائے۔مثلاً ایک نبی وعظ کرنے لگے۔اب کسی کو کیا معلوم کہ یہ نبی ہے یا نعوذ باللہ کوئی برا آدمی ہے؟ خدا نے ایسی باتوں کا رد فرما دیا ہے كم مَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ وَلَكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُوا (البقرة : ۱۲۳)۔تم ایسی باتوں سے توبہ کر لو۔اگر کوئی ایسا وعظ سنائے تو صاف کہہ دو کہ انبیاء کی ذات جامع کمالات ایسے افتراؤں سے پاک ہے۔( بدر جلد ۱۰ نمبر ۳۹ ----۲۷ / جولائی ۱۹۱۱ء صفحہ ۲)