خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 474 of 703

خطبات نور — Page 474

474 ایسے ہی ایک دہر یہ خیالات سے، جس کا قول تھا کہ اسلام کے اس قدر احکام کی پابندی مشکل ہے میں نے پوچھا کیا تم میونسپلٹی کے قانون کی متابعت نہیں کرتے؟ پولیس کے قانون کو نہیں مانتے؟ ضابطہ فوجداری کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرتے؟ سوسائٹی کے رول کی قدر نہیں کرتے؟ کیا تم طبی قوانین کا لحاظ نہیں رکھتے؟ اور کیا ان کا مجموعہ قرآن مجید سے بہت بڑا نہیں ہے؟ تو وہ بہت نادم ہوا۔عیسائیوں کے دماغ میں آزادی سمائی تو شریعت کو لعنت قرار دیا مگر ان کی سوسائٹی کے رول اس قدر ہیں کہ ایک ضخیم کتاب تیار ہو سکتی ہے۔ایک عالم کے منہ سے ایک بات نکلی جو میرے لئے نکتہ معرفت ہو گئی۔پہلے تو میں اللہ سے ڈرتا تھا مگر جوں جوں علم بڑھتا گیا تو یہ خشیت کم ہوتی گئی۔یہ اس لئے کہ ایسی کتابیں نہیں پڑھائی جاتیں جن سے خشیت بڑھے۔مدارس کے بارے میں تو یہ بحث پیش آگئی کہ کس مذہب کی کتاب پڑھائی جاوے۔میں کہتا ہوں انجیل کا ابتداء اور انتہاء اور قرآن مجید کا ابتدء اور انتہاء ہی دیکھ لو اور ان کا مقابلہ کرو۔ایک میں الحمد ایسی جامع دعا ہے کہ دنیا اس کی مثل سے عاجز ہے اور اخیر تمام دکھوں سے بچنے کی راہ بتائی۔دوسری میں ایک نسب نامہ ہے جو اخلاق و روح کے لئے کچھ مفید نہیں اور اخیر میں یہ لکھا ہے کہ وہ پھانسی دے دیا گیا۔غرض علماء میں تو خشیت نہیں اور عوام کالانعام ان کے تابع ہوئے۔گدی نشینوں کی حالت اس سے ناگفتہ بہ۔امراء اپنی دولت میں مست۔پھر اخبار نویس ہیں وہ دوسروں کی اصلاح پر تو تیار ہیں مگر اپنی اصلاح کے لئے کوئی کہہ دے تو لڑنے کو تیار ہیں اور یہ نہیں سمجھتے کہ جب تم کسی ناصح کی نصیحت کی قدر نہیں کرتے تو تمہارا کیا حق ہے کہ اپنی نصیحت کو منواؤ۔پس میں تمہیں تاکید کرتا ہوں کہ الہی حد بندیوں کو نگاہ رکھو اور ہر وقت نفس کا محاسبہ کرتے رہو کہ کل کے واسطے تم نے کیا تیاری کی ہے؟ ( بدر جلد نمبر۲۷-۲۸-۵۰۰ / مئی ۱۹۱۰ء صفحه ۱)