خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 473 of 703

خطبات نور — Page 473

۲۹ / اپریل ۱۹۱۰ء 473 خطبه جمعه حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ (الحشر:۹) کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔آج کل لوگوں کے یہ بات ذہن نشین کی جاتی ہے کہ آدمی آزاد ہے مگر جب پوچھا جاوے کہ کیا چور بھی آزاد ہے؟ زانی بھی آزاد ہے؟ تو حیرت زدہ ہو کر عجیب عجیب طور پر جواب دینے کی کوشش کرتے ہیں اور پھر اپنے طور پر کچھ حد بندیاں کرنے لگتے ہیں۔گویا اپنے قول کی آپ ہی تردید کر لیتے ہیں۔میں نے آج کل کے تعلیم یافتوں سے پوچھا ہے کہ جیسے تم آزاد بنتے ہو اگر تمہارے ماں باپ بھی اسی قسم کی آزادی اختیار کر لیں تو تم کیسی مشکلات میں پڑتے۔ماں پرورش ہی نہ کرتی اور یوں کہتی کہ چلو مجھے کیا پڑی ہے اس کا بول براز سنبھالوں اور یہ سوئے اور میں راتوں جاگوں، یتیمارداری میں جان تک ہلکان کر دوں۔باپ کے چلو ہمیں کیا ضرورت ہے خواہ مخواہ اسے خرچ دیں۔غرض سب کے دماغ میں آزادی کی ہوا سما جائے تو یہ کارخانہ دم میں تباہ ہو جائے۔