خطبات نور — Page 475
یکم جولائی ۱۹۱۰ء 475 خطبہ جمعہ حضرت امیرالمومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے وَيَقُولُ الْإِنْسَانُ ءَ إِذَا مَا مِتُّ لَسَوْفَ أُخْرَجُ حَيًّا (مریم:۶۷) کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔اگر کامل یقین ہو کہ فلاں بات کا یہ نتیجہ ہے تو میں نہیں سمجھتا کہ انسان فکر مند نہ ہو۔برسات آنے والی ہو تو سب کو لپائیوں کا فکر پیدا ہو جاتا ہے۔پھر لوگ بیج بونے کی تیاریاں، باوجود ان خوفوں کے کہ کھیتی شاید ہو یا نہ ہو یا پھر اس کے بعد اٹھانی یا کھانی نصیب ہو یا نہ ہو کر لیتے ہیں۔امتحان قریب ہو تو لائق سے لائق لڑکا کچھ نہ کچھ تیاری کر لیتا ہے۔یہ اس لئے کہ اسے یقین ہوتا ہے کل امتحان ضرور ہو گا۔تو پھر اگر قیامت کا یقین پیدا ہو تو انسان کیوں گناہ اور لوگوں کی حق تلفیاں اور اکل مال بالباطل کرے۔ایسے ایسے برے کام کر کے وہ زبان حال سے جتاتا ہے کہ اسے یوم الحساب کا یقین نہیں۔اگر یقین ہو تو اس کے متعلق تیاری بھی کرے۔اس کے بعد ایک دلیل بیان کرتا ہے کہ انسان کچھ نہ تھا۔ہم نے اسے اپنی صفت ربوبیت کے ماتحت بتدریج اس حالت میں پہنچایا۔یہ پورا ثبوت ہے اس بات کا کہ ہم اسے پھر اٹھائیں گے اور حسب اعمال جنت یا دوزخ میں پہنچائیں گے۔اس کی تفصیل فرماتا ہے کہ متقیوں کو بچائیں گے اور ظالموں کو دوزخ میں بھجوائیں گے۔اس وقت معلوم ہو گا کہ یہ ظاہری دکھلاوے کاساز و سامان کہاں تک کسی کے کام آنے والا ہے۔یہاں تک کہ اس دنیا میں بھی یہ چیزیں ان کو حقیقی عزت نہیں دے سکیں۔