خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 472 of 703

خطبات نور — Page 472

472 بک جاویں۔میں ایسے اجتماع اور ایسے روپے کو جو دنیا کے لئے ہو ، حقارت کی نظر سے دیکھتا ہوں۔جو سن رہا ہے وہ یاد رکھے اور دوسروں تک یہ بات پہنچاوے۔میں اسی غم میں پگھل کر بیمار بھی ہو گیا۔کیا اچھا ہو تا کہ تم میں سے جو تمہاری باہر کی جماعتوں کے سکرٹری و عمائد آئے تھے وہ مجھ سے علیحدہ ملتے۔میں ان کو بڑی نیکیاں سکھاتا اور بڑی اچھی باتیں بتاتا۔لیکن افسوس کہ ہماری صدر انجمن نے بھی ان کو یہ بات نہ بتائی۔اس لئے مجھے کو ان سے بھی رنج ہے۔کیا آیا ، کتنے روپے جمع ہوئے، ہم کو اس سے کچھ بھی غرض نہیں۔ہم کو تو صرف خدا چاہئے مجھ کو نہیں معلوم کہ کیا جمع ہوا کیا آیا؟ مجھ کو اس کی مطلق پروا نہیں۔پھر میں کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کو مقدم کرو۔ہماری کوششیں اللہ کے لئے ہوں۔اگر یہ نہ ہو تو ہائی سکول کیا حقیقت رکھتا ہے اور اس کی عمارتیں کیا حقیقت رکھتی ہیں۔ہمیں تو ہمارا مولیٰ چاہیئے۔اپنے احباب کو خط لکھو اور ان کو تنبیہہ کرو۔میں تو لاہور اور امرتسر کے لوگوں کا بھی منتظر رہا کہ وہ مجھ سے کیا سیکھتے ہیں لیکن ان میں سے بھی کوئی نہ آیا۔میں چاہتا تھا کہ لوگ میری زندگی میں متقی اور پر ہیز گاری بنیں اور دنیا اور اس کی رسموں کی طرف کم توجہ کریں۔( بدر جلد ۹ نمبر ۲۶٬۲۵٬۲۴ --- ۷ ۲۱٬۱۴۴ / اپریل ۱۹۱۰ء صفحہ ۲)