خطبات نور — Page 471
471 انسان خوش ہوتا ہے۔حاکم ہو، فوج ہو ، مال و اسباب ہو جب جا کر خوشی حاصل ہوتی ہے۔معیت کا انسان متوالا ہے۔میری طبیعت میں محبت کا مادہ ہے۔میں نے دیکھا ہے کہ محبت بھی معیت کو چاہتی ہے۔بطال لوگوں میں محبت کا مادہ ہو تو وہ بھی معیت کے متوالے ہوتے ہیں۔صوفیوں میں ان بطال لوگوں کے متعلق بحث یہی ہے۔مگر اس سے انکار نہیں کہ معیت کی تڑپ سب میں ہے۔انسان جب سرد ملکوں میں جاوے تو گرم کپڑوں کی معیت۔ریل کا سفر کرے تو پیسوں کی معیت چاہیے۔غرض انسان معیت کے بغیر کچھ بھی نہیں۔مگر خدا کی معیت سے بڑھ کر کوئی بھی معیت نہیں ہو سکتی کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر وقت موجود ہے۔سوتے جاگتے۔پس خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم میری معیت چاہتے ہو تو تقویٰ اختیار کرو۔تقوی میں تمام عقائد صحیحہ اور اعمال صالحہ آجاتے ہیں۔چنانچہ اس کے ساتھ ہی ”محسنون" فرمایا اور احسان یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی ایسی عبادت کرنا کہ گویا تم اسے دیکھ رہے ہو یا کم از کم یہ کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔میں اس وقت بڑی مشکل سے یہاں آیا ہوں۔میرے سر میں ایسا درد ہے جیسا کوئی سر پر کلہاڑی چلاتا ہے۔میں نے اس مرض میں اپنی اور تمہاری حالت کا بہت مطالعہ کیا ہے۔بعض اوقات مجھ کو اپنی آنکھوں کا بھی ڈر ہوا ہے۔بعض اوقات الْعَيْنُ حَقٌّ (بخاری کتاب الطب) کا بھی خیال آیا ہے۔غرض عجیب عجیب خیالات گزرے ہیں۔ان میں سے ایک بات تمہیں سناتا ہوں۔میرا ارادہ تھا کہ میں صرف عربي اَشْهَدُ اَنْ لَا إِلَهَ إِلا الله کہہ کر بیٹھ جاؤں۔مگر قدرت ہے جو مجھ کو بلاتی ہے۔اس واسطے یوں ہی سمجھ لو کہ یہ میرا آخری کلمہ ہے۔یوں بھی سمجھ لو کہ یہ آخری دن ہے۔تم لوگ بھی یہاں اکٹھے ہوئے تھے۔گورو کل انجمن حمایت الاسلام علی گڑھ والے بھی اکٹھے ہوئے ہیں۔وہاں بھی رپورٹیں پڑھی گئی ہیں، یہاں بھی۔ہمارے رپورٹر نے بھی رپورٹ پڑھ دی کہ اتنا روپیہ آیا اتنا خرچ ہوا۔پر میں سوچتا رہا ہوں کہ یہ لوگ یہاں کیوں آئے۔یہ روپیہ تو بذریعہ منی آرڈر بھی بھیج سکتے تھے اور رپورٹ چھپ کر ان کے پاس پہنچ سکتی تھی۔میرے اندازہ میں جو آدمی یہاں آئے تین ہزار سے زیادہ نہ تھے۔پھر جو لوگ عمائد تھے وہ اگر مجھ سے علیحدہ ملتے تو میں ان کے لئے دعائیں کرتا، انہیں کچھ نصیحتیں دیتا۔لیکن افسوس کہ اکثر لوگ اس وقت آئے کہ لو جی! سلام علیکم یکہ تیار ہے۔تم یاد رکھو میں ایسے میلوں سے سخت متنفر ہوں۔میں ایسے مجمعوں کو جن میں روحانی تذکرہ نہ ہو حقارت کی نظر سے دیکھتا ہوں۔یہ روپیہ تو وہ منی آرڈر کر کے بھیج سکتے تھے بلکہ اس طرح بہت سا خرچ جو مہمانداری پر ہوا وہ بھی محفوظ رہتا۔یہاں کے دکانداروں نے بھی افسوس! دنیا کی طرف توجہ کی اور کہا کہ جلسہ باہر نہ ہو ، شہر میں ہو ، ہماری چیزیں