خطبات نور — Page 455
455 نہیں۔ہمارے افعال برے ہیں جن کا خمیازہ زمانہ میں ہم کو اٹھانا پڑتا ہے۔"عصر " سے مراد نماز عصر بھی ہے۔اس میں یہ بات سمجھائی ہے کہ جیسے شریعت اسلام میں نماز عصر کے بعد کوئی فرض ادا کرنے کا وقت نہیں اسی طرح ہر زمانہ عصر کے بعد کا وقت ہے جو پھر نہیں ملے گا۔اس کی قدر کرو۔دو عصر " کے معنے نچوڑنے کے بھی ہیں۔گویا تمام خلاصہ اس صورت میں بطور نچوڑ کے رکھ دیا ہے۔غرض عصر کو گواہ کر کے انسان کو سمجھایا گیا ہے کہ وہ ایک برف کا تاجر ہے۔جو بات لڑکپن میں ہے وہ جوانی میں نہیں۔جو جوانی میں ہے وہ بڑھاپے میں نہیں۔پس وقت کو غنیمت سمجھو۔ائمہ نے بحث کی ہے کہ جو نماز عمداً ترک کی جاوے اس کی تلافی کی کیا صورت ہے ؟ سوسچی بات یہی ہے کہ اس کی کوئی صورت سوائے استغفار کے نہیں۔اسی واسطے اللہ تعالیٰ اس "خسر" کی تلافی کے لئے فرماتا ہے کہ ایک تو ایمان ہو جس کا اصل الاصول ہے لا إِلهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ - ای واسطے میری آرزو ہے کہ ہمارے واعظ اذان کے واعظ ہوں کہ وہ اسلام کا خلاصہ ہے۔ایمان کیا ہے؟ اللہ کو ذات میں بے ہمتا صفات میں یکتا، افعال میں لَيْسَ كَمِثْلِهِ (الشوری:۲) یقین کیا جاوے۔چونکہ اس کے ارادوں کے پہلے مظہر ملائکہ ہیں اس لئے ان کی تحریک کو تسلیم کیا جاوے۔برہمو جو قوم ہے یہ بڑے بری زبان کے لوگ ہیں۔اسلام کے سخت دشمن ہیں۔میں حیران ہو تا ہوں جب لوگ کہتے ہیں کہ یہ بڑے اچھے ہوتے ہیں۔یہ تو تمام انبیاء کو مفتری قرار دیتے ہیں۔اس سے بڑھ کر اور کوئی گالی کیا ہو سکتی ہے کہ خدا کے راستبازوں کو مفتری سمجھا جاوے۔چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے و مَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرى عَلَى اللهِ كَذِبًا (الانعام (۲)۔ایک برہمو سے میں نے انبیاء کے دعواے وحی حق کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا۔"دروغ مصلحت آمیز " جس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ اس قوم کو انبیاء کی نسبت کیسا گندہ خیال ہے۔یہ لوگ اللہ کی صفات میں سے ایک صفت يُرْسِلَ رَسُولاً (الشوری:۵۲) اور اس کے متکلم ہونے کے قائل نہیں اور ملائکہ مانا شرک ٹھہراتے ہیں۔حالانکہ خدا نے انہیں عِبَادُ مُكْرَمُونَ (الانبیاء: ۲۷) فرمایا ہے۔اور جن پر وہ نازل ہوتے ہیں ان کی نسبت فرمایا مَنْ تُطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ (النساء:۸)۔پھر جزا سزا کا ایمان ہے جو بہت سی نیکیوں کا سرچشمہ ہے۔ایک شخص نے مجھے کہا کہ آپ تو ابد الآباد غیر منقطع عذاب کے قائل نہیں۔اس کا مطلب یہ تھا کہ آخر ہم بھی تمہارے ساتھ آملیں گے۔بازار میں جا رہے تھے۔میں نے کہا کہ روپے لو اور دو جوت کھالو۔نہ مجھے کوئی جانتا ہے نہ تمہیں۔اس نے