خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 454 of 703

خطبات نور — Page 454

۲۱ جنوری ۱۹۱۰ء 454 خطبہ جمعہ حضور نے وَالْعَصْرِ - إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرٍ - إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ (العصر: نام) کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔دو صحابی آپس میں ملتے تھے تو کم از کم اتنا شغل کر لیتے تھے کہ اس سورۃ کو باہم سنادیں۔سو اس نیت سے کہ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ (التوبة۔۔) کے ماتحت رضامندی کا حصہ مجھے بھی مل جاوے میں بھی تمہیں یہ سورۃ سناتا ہوں۔دو ” عصر " کہتے ہیں زمانہ کو جو ہر آن گھٹتا جاتا ہے۔دیکھو میں کھڑا ہوں۔جو فقرہ بولا اب اس کے لئے پھر وہ وقت کہاں ہے؟ قسم ہمیشہ شاہد کے رنگ میں ہوتی ہے۔گویا بد بیات سے نظریات کے لئے ایک گواہ ہوتا ہے۔تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ انسان کی عمر گھٹ رہی ہے جیسے کہ زمانہ کوچ کر رہا ہے۔عصر کی شہادت میں ایک یہ نکتہ معرفت بھی ہے۔زمانہ کو گالیاں نہیں دینی چاہئیں جیسا کہ بعض قوموں کا قاعدہ ہے۔فارسی لٹریچر میں خصوصیت سے یہ برائی پائی جاتی ہے۔اس لئے حدیث شریف میں آیا ہے لا تَسُبُّوا الدَّهْرَ (مسند احمد بن حنبل)۔خدا جس کو گواہی میں پیش کرے وہ ضرور عادل ہے۔زمانہ برا