خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 456 of 703

خطبات نور — Page 456

456 قبول نہ کیا کہ میری ہتک ہوتی ہے۔میں نے کہا پھر جہاں اولین آخرین جمع ہوں گے وہاں یہ بے عزتی کیسے گوارا کر سکو گے؟ پھر ایمان بالقدر تمام انسانی بلند پروازیوں کی جڑ ہے۔کیونکہ جب یہ یقین ہو کہ ہر کام کوئی نتیجہ رکھتا ہے تو انسان سوچ سمجھ کر عاقبت اندیشی سے کام کرتا ہے۔دیکھو اِمَاطَةُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ (مسلم کتاب الایمان) بھی ایمان کا ایک شعبہ ہے اور اس سے انگریز قوم نے خصوصیت سے فائدہ اٹھایا ہے۔پشاور سے کلکتہ تک رستہ صاف کیا تو کیا کچھ پایا۔مسلمان اگر مسئلہ قدر پر ایمان مستحکم رکھتے تو ہمیشہ خوشحال رہتے۔پھر جیسا ایمان ہو اسی کے مطابق اس کے اعمال صالحہ ہوں گے۔نماز، زکوۃ، روزہ ، حج اخلاق فاضلہ بدیوں سے بچنا یہ سب ایمان کے نتائج ہیں۔پھر اسی پر مومن سبکدوش نہیں بلکہ اس کا فرض ہے کہ جو حق پایا ہے اسے دوسروں کو بھی پہنچائے اور اس حق پہنچانے میں جو تکلیف پہنچے اس پر صبر کرے اور صبر کی تعلیم دے۔صوفیاء میں ایک ملامتی فرقہ ہے۔وہ بظاہر ایسے کام کرتا ہے جس سے لوگ ملامت کریں۔رنڈیوں کے گھروں میں کسی دوست کے سامنے چلے جائیں گے۔وہاں جا کر پڑھیں گے قرآن شریف اور نماز مگر رات وہیں بسر کریں گے۔حضرت صاحب نے مجھے فرمایا کہ آمر بالمعروف اور ناہی عن المنکر خود ملامتی فرقہ ہوتا ہے۔جب مومن کسی کو بری رسوم و عادات کی ظلمت سے روکے گا تو تاریکی کے فرزندوں سے ملامت سنے گا۔میرا حال دیکھ لو۔کیا ملامتی فرقے والے مجھ سے زیادہ بدنام ہو سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔پس مومن کو کسی فرقے میں داخل ہونے کی ضرورت نہیں بلکہ وہ حق کا مبلغ اور اس پر مستقل مزاجی اور استقامت سے قائم رہے۔پھر وہ ہر قسم کے دنیا و آخرت کے خسران سے محفوظ رہے گا۔بد ر جلد ۹ نمبر ۱۵-۳۰ / فروری ۱۹۱۰ء صفحه ۱-۲)