خطبات نور — Page 453
453 خطیات نور غرض وہ شخص اللہ کے تمام احکام ادا کرتا ہے۔جب بولتا ہے تو خدا کی تعلیم کے مطابق۔ہلتا ہے تو اللہ کے حکم سے۔ٹھہرتا ہے تو اللہ کے ارشاد سے۔یہ سن کر سب شیخ اٹھے کہ یہ عراقی لڑکا تاج العارفین نظر آتا ہے۔ان کے اتباع بہت لوگ نظر آتے ہیں۔غرض معلمین میں سے ایک گروہ تو فقہاء کا تھا۔چنانچہ امام ابو حنیفہ شافعی، مالک احمد بن حنبل، داؤد امام بخاری، اسحاق بن راہویہ رَحِمَهُمُ اللهُ یہ سب لوگ حامی اسلام گزرے ہیں۔انہوں نے بادشاہوں کا ہاتھ خوب بٹایا۔دو سرا گروہ متکلمین کا ہے۔جن میں امام ابو المنصور الماتریدی‘ الامام ابوالحسن الاشعری، ابن حزم امام غزالی امام رازی، شیخ تیمیہ، شیخ ابن قیم رَحِمَهُمُ الله ہیں۔تیسرا گروہ جنہوں نے احسان کو بیان کیا ہے۔ان میں سید عبدالقادر جیلانی "بڑا عظیم الشان انسان گزرا ہے۔ان کی دو کتابیں بہت مفید ہیں۔ایک فتح الربانی دوم فتوح الغیب۔دوسرا مرد خدا شیخ شهاب الدین سہروردی ہے جنہوں نے عوارف لکھ کر مخلوق پر احسان کیا ہے۔تیسرا آدمی جس کے بارے میں بعض علماء نے جھگڑا کیا ہے مگر میں تو اچھا سمجھتا ہوں، شیخ محی الدین ابن عربی ہے۔پھر ان سے اتر کر امام شعرانی گزرے ہیں۔پھر محمد انصاری ہیں۔ہزار سال کے بعد شاہ ولی اللہ صاحب ہیں، مجدد الف ثانی ہیں۔ان لوگوں نے اپنی تصنیف پر زور دیا ہے مگر صرف روحانیت سے۔ہندوستان میں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کا نام سکھایا ہے ان میں حضرت معین الدین چشتی ہیں، حضرت قطب الدین بختیار کاکی ہیں، حضرت فرید الدین شکر گنج ہیں، حضرت نظام الدین محبوب الہی ہیں، حضرت نصیر الدین چراغ دہلی رَحِمَهُمُ اللَّهُ ہیں۔یہ سب کے سب خدا کے خاص بندے تھے۔ان کی تصانیف سے پتہ لگتا ہے کہ ان کو قرآن شریف و احادیث سے کیا محبت تھی۔نبی کریم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیساتھ کیا تعلق تھا۔یہ بے نظیر مخلوقات تھیں۔بڑا بد بخت ہے وہ جو ان میں سے کسی کے ساتھ نقار رکھتا ہو۔یہ باتیں میں نے علی وجہ البصیرت کسی ہیں۔ایک نکتہ قابل یاد سنائے دیتا ہوں کہ جس کے اظہار سے میں باوجود کوشش کے رک نہیں سکا۔وہ یہ کہ میں نے حضرت خواجہ سلیمان رحمۃ اللہ علیہ کو دیکھا۔ان کو قرآن شریف سے بڑا تعلق تھا۔ان کے ساتھ مجھے بہت محبت ہے۔اٹھتر برس تک انہوں نے خلافت کی۔بائیس برس کی عمر میں وہ خلیفہ ہوئے تھے۔یہ بات یاد رکھو کہ میں نے کسی خاص مصلحت اور خالص بھلائی کے لئے کسی ہے۔(بدر جلد ۹ نمبر ۱۴-۲۷ / جنوری ۱۹۱۰ء صفحه ۸-۹)