خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 452 of 703

خطبات نور — Page 452

452 (ال عمران:۱۲۵) یعنی پہلے لوگوں کو احکام الہی سنائے جاویں۔ان کو کتاب و حکمت سکھائی جاوے۔پھر ان کا تزکیہ ہو۔تین مرتبے ہیں۔يَتْلُوا- يُعَلِّمُهُمْ - يُزَكِّيهِمْ - حدیث میں ان کو اسلام ایمان احسان سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔تزکیہ کس رنگ میں فرماتے ؟ رسول کریم جب اپنا فرمانبردار کسی کو دیکھتے تو پھر اس کے لئے دعائیں کرتے اور اسی طرح پر اللہ کا فضل خصوصیت سے اس پر نازل ہو تا اور خدا تعالی خود اس کا متولی ہو جاتا۔صحابہ میں بھی تین قسم کے لوگ تھے۔ایک معلم ، چنانچہ ابو ہریرہ۔عبد اللہ بن عمر"۔انس بن مالک۔یہ جس قدر لوگ ہیں احکام رض سناتے رہے۔صحابہ میں سے بعض خواص ایسے تھے جو بہت کم احادیث سناتے جیسے خلفاء راشدین بالخصوص حضرت ابوبکر مگر جو حدیثیں انہوں نے سنائیں وہ ایسی جامع ہیں کہ ان سے بہت سے احکام نکل سکتے ہیں۔بعد اس کے جب لوگوں میں کمی آگئی تو صحابہ کے آخری اور تابعین کے ابتدائی زمانے میں بادشاہ الگ ہو گئے اور معلم لوگ الگ۔جو معلم اسلام کے تھے وہ فقہاء کہلائے۔گویا ایک طرف بادشاہ تھے اور ایک طرف فقہاء جن کے ذمے تعلیم کتاب اور تزکیہ یا احسان کا کام تھا۔یہی اہل اللہ تھے۔چونکہ ایک وقت میں دو خلفاء بیعت نہیں لے سکتے اس لئے ان لوگوں نے بجائے بیعت کے کچھ نشان اپنی خدمت گزاری کے مقرر کرلئے۔مشہور پیر قافلہ جنید بغدادی ایک دفعہ بچے ہی تھے کہ مکہ معظمہ اولیاء کرام کی صحبت میں چلے گئے جہاں محبت الہی پر مکالمہ ہو رہا تھا۔ان لوگوں نے کہا۔کیوں میاں لڑکے! تم بھی کچھ بولو گے ؟ تو انہوں نے بڑی جرأت سے کہا۔کیوں نہیں۔اس پر انہوں نے کہا۔لَهُ عَهْدٌ ذَاهِبٌ عَنْ نَفْسِهِ مُتَّصِلٌ بِذِكْرِ رَبِّهِ قَائِمٌ بِأَدَاءِ حَقِّهِ إِنْ تُكَلِّمْ فَبِاللَّهِ وَفِي اللَّهِ وَإِنْ تُحَرِك فَبِأَمْرِ اللَّهِ وَإِنْ سَكَنَ فَمَعَ اللهِ (تذکرة الاولياء فارسی فی ذکر جنید بغدادی جس کے مختصر معنی یہ ہیں کہ صوفی وہ ہے جو اپنا ارادہ سب چھوڑ دے۔کام کرے مگر خدا کے حکم سے۔ہر وقت خدا کی یاد سے اس کا تعلق وابستہ رہے۔وہ بیوی سے صحبت کرے مگر اس لئے کہ عَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ (النساء:٢٠) کا حکم ہے۔کھانا کھائے مگر اس لئے کہ کُلُوا خدا کا حکم ہے۔یہ بڑا سخت مجاہدہ ہے۔میں نے خود تجربہ کر کے دیکھا ہے۔آٹھ پہر میں انسان اس میں کئی بار فیل ہو جاتا ہے إِلَّا مَنْ عَصِمَهُ اللهُ