خطبات نور — Page 390
390 مخلوق الہی کو حقارت سے دیکھتے ہیں۔اس کا انجام خطر ناک ہے۔ان لوگوں میں تحقیر کا مادہ یہاں تک بڑھ جاتا ہے کہ اگر کسی کی طاقت مسجد کے متعلق ہے تو وہ ان لوگوں کو جو اس کے ہم خیال نہیں مسجد سے روک دیتا ہے اور یہ نہیں سمجھتا کہ آخر وہ بھی خدا ہی کا نام لیتا ہے۔ایسا کر کے وہ اس مسجد کو آباد نہیں بلکہ ویران کرنا چاہتا ہے۔بارہویں صدی تک اسلام کی مسجدیں الگ نہ تھیں بلکہ اس کے بعد سنی اور شیعہ کی مساجد الگ ہوئیں۔پھر وہابیوں اور غیر وہابیوں کی اور اب تو کوئی حساب ہی نہیں۔ان لوگوں کو یہ شرم نہ آئی کہ مکہ کی مسجد تو ایک ہی ہے اور مدینہ کی بھی ایک ہی۔قرآن بھی ایک نبی بھی ایک اللہ بھی ایک پھر ہم کیوں ایسا تفرقہ ڈالتے ہیں؟ ان کو چاہئے کہ مسجدوں میں خوف الہی سے بھرے داخل ہوتے۔صرف اسی وجہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب مسجد میں آئے اور جماعت ہو رہی ہو تو وقار اور سکینت سے آئے اور ادب کرے جیسا کہ کسی شہنشاہ کے دربار میں داخل ہوتا ہے۔لیکن وہ اگر خوف الہی سے کام نہیں لیتے اور مسجدوں میں نماز پڑھنے سے روکتے ہیں ان کے لئے دنیا میں بھی ذلت ہے اور آخرت میں بھی بڑا عذاب ہے۔یاد رکھو کسی کو مسجد سے روکنا بڑا بھاری ظلم ہے۔اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طرز عمل کو دیکھو کہ نصرانیوں کو اپنی مسجد مبارک میں گرجہ کرنے کی اجازت دے دی۔(اللہ تعالی) صحابہ کرام کو تسلی دیتا ہے کہ اگر (کوئی) تمہیں مسجد میں داخل ہونے سے روکتا ہے تو کچھ غم نہ کرو، میں تمہارا حامی ہوں۔جس طرف تم گھوڑوں کی باگیں اٹھاؤ گے اور منہ کرو گے اسی طرف میری بھی توجہ ہے۔چنانچہ جدھر صحابہ نے رخ کیا فتح و ظفر استقبال کو آئی۔یہ بڑا اعلیٰ نسخہ ہے کہ کسی کو عبادت گاہ سے نہ روکو اور کسی مخلوق کی تحقیر نہ کرو۔مگر اس سے یہ مطلب نہیں کہ دنیا میں امر بالمعروف نہ کرو۔ہرگز نہیں۔بلکہ صرف حسن سلوک اور سلامت روی سے پیش آؤ۔جو کسی کی غلطی ہو اس کی فوراً تردید کرو۔مثلاً عیسائی ہیں۔جب وہ کہیں کہ خدا کا بیٹا ہے تو ان کو کہو خدا تعالیٰ اس قسم کی احتیاج سے پاک ہے۔جب آسمان و زمین میں سب کچھ اسی کا ہے اور سب اس کے فرمانبردار ہیں تو اس کو بیٹے کی کیا ضرورت ہے؟ بدر جلد ۸ نمبر۱۷-۱۸۰۰, فروری ۱۹۰۹ء صفحه ۲) ☆-⭑-⭑-⭑۔