خطبات نور — Page 359
۱۸ ستمبر ۱۹۰۸ء 359 خطبہ جمعہ حضرت امیر المومنین نے آیت قرآنی وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا (البقره:۳۲) پر خطبہ ارشاد فرمایا جو درج ذیل ہے۔الله تعالى لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْء (الشوری:۲) ہے۔اس کی ذات وصفات کی ماہیت کی دریافت انسان نہیں کر سکتا۔صفات سے جو افعال پیدا ہوتے ہیں ان کا بھی حقیقی علم نہیں۔ہاں افعال کا نتیجہ ہم نے دیکھا۔مَا اَشْهَدْتُهُمْ خَلْقَ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ (الكهف (۵۲)۔اس صورت میں اشیاء کے ذوات کا علم بھی بغیر تعلیم الہی نہیں ہو سکتا۔اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کو مختلف کاموں کے لئے بنایا ہے اور ہر ایک کو ایک خدمت سپرد کی ہے۔بس اس کی نسبت اس کو علم ہے۔چنانچہ مذکور ہے کہ حضرت ابراہیم کو جب آگ میں ڈالا گیا تو فرشتے نے کہا کہ میں امداد کروں؟ فرمایا اَمَّا إِلَيْكَ فَلا یہ توحید کا اعلیٰ درجہ ہے۔ایسا ی جب ہماری سرکار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم طائف گئے تو وہاں کے بد معاشوں نے مخالفت کی اور شرارت سے پتھر پھینکے جن سے آپ کے جسم مبارک کو لہولہان کر دیا۔بارہ میل آپ دوڑتے آئے۔انگور کا ایک باغیچہ تھا وہاں ٹھر گئے۔مالک نے نوکر کے ہاتھ چند انگور بھیج دیئے اور اسے کہا دیکھو! تم