خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 360 of 703

خطبات نور — Page 360

360 اس کی باتیں نہ سننا۔آپ نے انگور کھانے سے پہلے بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ پڑھی۔وہ متعجب ہوا کہ بت پرستوں کے شہر کا رہنے والا توحید کے اس درجہ پر ہو۔ملک الجبال آپ کے پاس آیا۔عرض کیا کہ اگر آپ فرما دیں تو پہاڑ ان پر گرا دوں۔فرمایا۔نہیں، میں امید کرتا ہوں کہ اللہ ان کی مدد سے صالح پیدا کرے گا۔غرض ہر کام کے لئے ایک فرشتہ مقرر ہے۔چنانچہ جہنم کے لئے الگ فرشتے ہیں عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ (المدثر (۳) جنت کے لئے رضوان۔ایک ہاروت ماروت جو بابل کے نبیوں پر کلام لائے۔ان تمام عناصر کا مجموعہ انسان ہے۔گویا انسان ان تمام علوم کا جامع ہے اور اسی حقیقت کو اس آیت میں بتایا گیا ہے۔اعتراض کیا جاتا ہے کہ جب آدم کو پہلے تعلیم دی گئی تو پھر فرشتوں پر فوقیت کیا ہوئی۔نادانوں نے یہ نہیں سمجھا کہ ثابت صرف یہ کرنا تھا کہ اللہ جسے علم دیتا ہے اس کو آتا ہے۔چنانچہ اس نے آدم کو پڑھا دیا۔اسے جامع علوم (ذوات الاشیاء) بنادیا اور فرشتوں کو اس ڈھب کا نہ بنایا۔دوسرے خطبہ کی نسبت فرمایا عِبَادَ اللهِ رَحِمَكُمُ اللهُ إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيْتَاى ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَ الْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ اذْكُرُوا اللهَ كُرْكُمْ وَادْعُوهُ يَسْتَجِبْ لَكُمْ وَلَذِكْرُ اللَّهِ اَكْبَرُ - یہ عمر بن عبدالعزیز نے ذاتی معلومات کی بجائے بڑھایا جس کی مقبولیت ہو گئی۔مجھے بھی پسند ہے۔ایک تو اللہ کا کلام ہے۔دوم صالح آدمی نے قائم کیا۔اچھے لوگ ہمیشہ بدی کو دور کرنے کے لئے ایسی پاک تدبیریں کیا کرتے ہیں۔جھگڑوں میں نہیں پڑتے۔(بدر جلدے نمبر۷ ۳ یکم اکتوبر ۱۹۰۸ء صفحه ۲) ⭑-⭑-⭑-⭑