خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 323 of 703

خطبات نور — Page 323

323 وہ کاہل اور سست انسان جو کہ توکل کے جھوٹے معنے گھڑ کر تو کل کی آڑ میں ایسا کرتے ہیں سوچیں اور غور کریں۔پس ایسے انسان جبکہ ان کی ضرورتیں ان کو مجبور کرتی ہیں، مکان ، لباس ، خوراک اور بیوی بچوں کی ضروریات ان کو مجبور کرتی ہیں تو وہ اس فکر میں لگ جاتے ہیں کہ کوئی الو مل جاوے اور ان کا کام ہو جاوے۔کسی کی کمائی ان کو مفت میں مل جاوے۔غرض اس طرح سے ناجائز طریق سے کوشش کر کے قرض لیتے اور پھر جب ادا ہونے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی تو کسی کے کان کاٹ کر بلی کے اور بلی کے کاٹ کر کتی کے لگاتے پھرتے ہیں اور لوگوں کو دھوکا دیتے اور ایک سے لے کر دوسرے کو اور دوسرے سے لے کر تیسرے کو دیتے ہیں۔ایسی ایسی چالاکیاں ان کو کرنی پڑتی ہیں۔غرض یہ بہت خطرناک حالت ہے۔پس تم کوشش کرو۔حق پہنچاؤ اور ضرور پہنچاؤ۔ہم وحزن سے کچھ نہیں ہو تا۔کوشش سے کچھ ہوتا ہے، کوشش کرو اور خدا سے دعائیں کرتے رہو۔اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے اور فضل کرے۔آمین۔خطبہ ثانیہ اللہ تعالیٰ کو جتنا جتنا تم یاد کرو گے وہ بھی تمہیں یاد کرے گا اور تمہاری عزت اور بزرگی بڑھائے گا۔اگر تم اعلاء کلمۃ اللہ میں دل و جان سے کوشش کرو گے، خدا کی باتیں لوگوں کو پہنچاؤ گے تو یہ قاعدہ کی بات ہے کہ حق گو اور حق کے پہنچانے والوں کے لوگ دشمن ہو جایا کرتے ہیں۔قسما قسم کی تہمتیں اور الزام لگائے جاتے ہیں۔اصل میں یہ سب اس واسطے ہوتا ہے کہ شیطان کو فکر پڑ جاتی ہے کہ اس طرح میرا کام بگڑ جائے گا۔انڈا وہ سر توڑ کوشش کرتا ہے اور حق گو کے مقابلے کے واسطے اپنے پورے ہتھیاروں سے آموجود ہوتا ہے تاکہ حق ظاہر نہ ہو۔مگر آخر کار حق غالب آجاتا ہے اور سچائی کی فتح ہوتی ہے اور شیطان ہلاک اور ذلیل ہو جاتا ہے۔پس تم بھی کوشش کرو کہ حق کے پہنچانے والے بنو اور پھر ان مشکلات پر صبر کرنیوالے ہو جاؤ جو حق کے پہنچانے میں لازمی ہوتے ہیں۔اللَّهُمَّ اكْفِنِي بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ - مالی مشکلات کے وقت انسان کیا کچھ نہیں کرتا۔حلال و حرام کی تمیز اٹھ جاتی ہے اور انسان پروا نہیں کرتا کہ آیا میں جائز ذریعہ سے پیٹ بھر رہا ہوں کہ ناجائز طریق ہے۔غرض فقر و فاقہ ایک ایسی مصیبت ہوتی ہے کہ انسان کو