خطبات نور — Page 324
324 حلال و حرام میں فرق بھی نہیں کرنے دیتی۔حدیث میں آیا ہے کہ حرام کھانے والے کی دعا کبھی قبول نہیں ہوتی۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ انسان پر اگر ایک بڑے پہاڑ کے برابر بھی قرض ہو جاوے تو اللہ تعالیٰ اس دعا کے ذریعہ سے اس کے ادا کرنے کے سامان مہیا کر دیتا ہے اور اس طرح سے انسان قرض سے سبکدوش ہو جاتا ہے۔پس اگر انسان سے خطا پر خطا اور چوک پر چوک ہی ہوتی گئی ہے اور یہ ابتدائی مشکلات سے اپنے آپ کو نہیں بچا سکا اور ہم وحزن کے نتائج کا خمیازہ اٹھا کر عجز و کسل میں اور عجز و کسل کے نتائج بد بھگتنے کے لئے بخل اور جبن اور آخر کار قرض کی مصیبت میں مبتلا ہو ہی گیا ہے تو بھی اس کے واسطے ایک ذریعہ بچاؤ کا اور ہے اور وہ دعا ہے۔اگر انسان کو دعا اپنے تمام لوازم اور شرائط کے ساتھ نصیب ہو جاوے تو انسان کی خوش قسمتی ہے اور مصائب سے نجات پا جانے کی ایک یقینی راہ ہے۔نیز موجودہ زمانے میں دنیا طلبی اور دنیا کمانے کی کچھ ایسی ہوا چلی ہے کہ جس کو دیکھو اسی دھن میں لگا ہے اور جسے ٹولو اسی فکر میں حیران و سرگردان ہے۔کوئی محکمہ کوئی سوسائٹی ادنی سے لے کر اعلیٰ تک، ماتحت سے افسر تک حاکم سے بادشاہ تک جسے دیکھو دنیا کی فکر میں لگا ہے۔ضروریات کے وقت جائز وناجائز کی بھی پروا نہیں کی جاتی بلکہ بلا امتیاز حلال و حرام اکٹھا کرنے کی کوشش اور فکر کی جارہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس زمانہ میں ہمارے حضرت امام علیہ الصلوۃ و السلام نے بھی اس امر کو محسوس کر کے اس زمانہ کے مناسب حال اقرار لیا کہ میں دین کو دنیا پر مقدم کروں گا۔پس آخر کار ان مشکلات کے واسطے اس دعا میں ہی یہ راہ بتائی کہ دعا کرے اور بات بھی یہی حق ہے کہ دعا ہی سے بیڑا پار ہوتا ہے۔قرآن شریف سنو اور عمل کی غرض سے سنو۔نفس کا دخل مت دو اور خدا سے دعائیں کرتے رہو۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق دے اعمال صالحات کی اور شر اور گناہ سے بچنے کی۔آمین۔الحکم جلد ۱۳ نمبر ۲۶-۱۰۰۰ار اپریل ۱۹۰۸ء صفحه ۵ تا ۸) ⭑-⭑-⭑-⭑