خطبات نور — Page 322
322 اور ان میں ایک ایسا ملکہ پیدا ہو جاوے جس سے وہ آزادی اور صفائی سے اپنا عندیہ اور خیالات کا اظہار دوسروں پر کر سکیں اور ان کو حق کے پہنچانے اور تبلیغ دین کے لئے مؤثر پیرایوں سے طاقت بیانیہ حاصل ہو جاوے اور خاص مضمون پر لیکچر دینے اور اس کے حدود کے اندر تقریر کرنے کی طاقت ہو جاوے مگر بہت کم توجہ کی جاتی ہے۔یاد رکھو کہ یہ زمانہ ایسا ہے کہ اس وقت تیر و تفنگ اور بندوق توپ اور قواعد جنگ و فنون حرب سے واقفیت حاصل کرنے کی ضرورت نہیں۔اس زمانہ کے مناسب حال ہتھیار یہی ہے کہ کامل اور صحیح علم کی زبردست طاقت اور تقریر اور قوت بیان اور عجیب در عجیب پیرایوں سے اپنے خیالات کو مدلل اور مبرہن کر کے اپنے دشمنوں پر حجت پوری کرنے کے زبر دست اور تیز ہتھیاروں کی ضرورت ہے۔فَتَدَبَّرُوا - وَ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْن وَ قَهْرِ الرِّجَالِ صاف بات ہے کہ جب انسان میں افلاس ہو گا ضرورتیں مجبور کریں گی۔قحط گرانی اشیاء کپڑا غلہ دال گوشت ، دودھ ، تعلیم، سب چیزیں گراں ہوں گی تو انسان جس کا گزارہ ان کے سوا ہو نہیں سکتا مجبور ہو گا کہ کسی سے قرض لے اور طرح طرح کی تدابیر حصول قرض کے واسطے اسے عمل میں لانی پڑیں گی اور اس طرح سے وہ قرض کی مصیبت میں مبتلا ہو جاوے گا۔پھر چونکہ آمدنی کے ذرائع تو محدود ہیں اور آمد خرچ سے کم ہے قرض کے ادا کرنے کی کوئی صورت نظر نہ آوے گی۔قرض خواہ لوگ تنگ کریں گے۔سختی کریں گے۔مقدمات کریں گے۔ڈگریاں کرائیں گے۔قرقیاں ہوں گی۔لوگ گلے میں کپڑا ڈالیں گے۔غرض اس طرح سے حالت بہت خطرناک اور نازک ہو جاوے گی۔اس واسطے دعا کرنی چاہئے کہ خدا ان سب باتوں سے بچاوے اور ہم و حزن سے محفوظ رکھے۔بچے اسباب مہیا کرنے اور پھر ان سے کام لینے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ بخل اور جبن اور پھر ان کے بد نتائج قرض اور قہر الرجال سے حفاظت میں رکھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مومن متقی کی مثال اس پرند کی ہے کہ تَغْدُو حِمَاسًا وَ تَرُوحُ بِطَانًا اپنے گھونسلے میں دانہ جمع نہیں رکھتا۔مگر وہ بیکار اور بے دست و پا ہو کر بھی اپنے ہاتھ پاؤں تو ڑ کر نہیں بیٹھ رہتا۔باہر جاتا ہے اور شام کو پیٹ بھر کر واپس آشیاں میں آتا ہے۔پس مومن کے واسطے بھی اس میں ایک سبق رکھا ہے اور توکل کے معنے بتائے گئے ہیں۔جس طرح سے پرندہ کے گھر میں دانہ جمع نہیں ہے مگر وہ ہاتھ پاؤں توڑ کر بیٹھ بھی نہیں رہتا بلکہ گھونسلے سے باہر جاتا ہے، محنت مشقت کرتا ہے اسی طرح انسان کو بھی محنت کرنی چاہئے تاکہ اس کی ضرورتیں اس کے واسطے بھی مہیا کی جاویں۔