خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 310 of 703

خطبات نور — Page 310

310 عادات میں ، رسم و رواج میں ، شغل میں اور بے کاری میں شادی میں، غم میں ، لین دین میں غرض اپنے کل کاروبار میں اسی اصل کو نصب العین رکھو اور جانچتے رہو کہ دنیا مقدم ہے یا کہ دین۔پھر ولایت کا کونسا درجہ ہے جس کو تم حاصل نہیں کر سکتے۔دیکھو تم جو اس وقت اس جگہ موجود ہو عمروں میں مختلف ہو۔بلحاظ قوم کے آپس میں بڑے بڑے اختلاف ہیں۔رسوم و رواج، عادات، تعلیم و تربیت، خیالات، امنگیں بالکل مختلف ہیں۔عزت اور مرتبوں کے لحاظ سے مختلف ہیں۔پھر باوجود ان اختلافات کے گرمی ہے اور پھر قحط کی مصیبت ہے۔ان مشکلات کے ہوتے ہوئے پھر ایک بگل بجنے سے تم کیسے یکدم جمع ہو گئے ہو۔ذرا اس میں غور تو کرو۔اسی طرح سے وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا اللہ تعالیٰ کی طرف جانے کے واسطے بھی اس طرح یکجا کوشش کرو۔دعا کرو کہ باوجود ہر قسم کے اختلاف کے وحدت کی روح پھونکی جاوے اور بغض، کینے ، عداوتیں سب دور ہو کر باہمی محبت اور ملاپ پیدا ہو جاوے۔تکلیف میں صبر اور استقلال نصیب ہو جاوے۔سوء ظنی آپس میں اور خدا کی ذات پر دور ہو جاوے۔مصائب اور شدائد میں خدا کے ساتھ صلح ہو جاوے۔غرض دعاؤں سے کام لو اور وحدت مانگو تا وحدت کے فیوض سے بھی مستفید ہو سکو۔وَاذْكُرُوا نِعْمَةَ اللهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنْتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ دیکھو قادیان کی زبان، یہاں کا لباس، یہاں کا کوئی منظر یا کوئی فضا اس نواح کے لوگوں کے اخلاق و عادات یا رسم و رواج کچھ بھی ایسا دلچسپ ہے جس سے لوگ اس طرح اس کے گرویدہ ہو کر اور دور سے اس طرح سمٹ آتے جیسے پروانے شمع پر ؟ ہر گز نہیں۔بلکہ میرے خیال میں تو یہ بھی ایک وادی غیر ذی زرع ہے۔اس وادی غیر ذی زرع میں زبان کا کمال تو تھا مگر یہاں تو وہ بھی نہیں۔وہاں جتھا تھا جو ایک خوبی ہے، یہاں یہ بھی تو نہیں۔صرف ایک آواز ہے جو خدا کے ایک برگزیدہ انسان نے خدا سے نصرت اور تائید کے الہام پا کر دین کو دنیا پر مقدم کرنے کی دلکش دلآویز اور سریلی راگنی گائی اور تم نے اس کو سن کر قبول کیا۔پس اسی طرح اپنی آخرت کے واسطے بھی زاد راہ تیار کرنے میں سر توڑ کوششیں کرو۔اور اس کے واسطے دعاؤں اور ہاں دردمندانہ دعاؤں سے سامان مہیا ہوں گے اور توفیق عطا کی جاوے گی۔دیکھو قاعدہ کی بات ہے کہ انسان جب کسی امام سے یا پیرو مرشد سے تعلق کرتا ہے تو سوچتا ہے کہ مجھے اس سے کیا فائدہ ہوا؟ اور اس کو مجھ سے کیا نفع ہوا؟ سو اگر ان لوگوں کے ساتھ جو خدا کی طرف سے مامور ہو کر آتے ہیں اگر اول ہی اول بڑے بڑے لوگ شامل ہو جاویں تو وہ جب غور کریں کہ اس سے ہمیں کیا فائدہ پہنچا تو معا ان کے دلوں میں یہ خیال آجاتا ہے کہ ہمیں تو جو فائدہ ہوا سو ہوا مگر اس پر