خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 311 of 703

خطبات نور — Page 311

311 ہمارے بڑے بڑے احسان ہیں۔ہماری وجہ سے اس کو عزت ملی ہمارے مالوں سے اس کے سارے کام نکلے ہماری وجہ سے اس کو شہرت نصیب ہوئی۔غرض اس طرح سے وہ سلسلہ پر اپنا احسان رکھتے ہیں۔اس واسطے خدا جو کہ قادر مقتدر ہستی اور رب العالمین ہے اس نے یہ قاعدہ بنا دیا ہے کہ مامورین اور مرسلوں کے ساتھ ابتداء میں معمولی اور غریب لوگ ہی شامل ہوا کرتے ہیں اور جتنے اکابر اور بڑے بڑے مدبر کہلانے والے ہوتے ہیں وہ ان کے مقابل میں کھڑے کر دیئے جاتے ہیں تاکہ وہ اپنی سفلی کوششیں ان کے نابود کر دینے میں صرف کر لیں اور اپنے سارے زوروں سے ان مرسلوں کی بیخ کنی کے منصوبے کرلیں۔پھر ان کو ذلیل اور پست کر دیا جاتا ہے اور خدا کے بندوں کی فتح اور نصرت ہوتی ہے اور وہی آخر کار کامیاب اور مظفر و منصور ہوتے ہیں۔اور یہ سب کچھ اس لئے ہوتا ہے کہ کوئی خدائی سلسلہ پر احسان نہ رکھے۔بلکہ خدا کی قدرت نمائی اور ذرہ نوازی کا ایک بین ثبوت ہو کر ان مومن ضعفاء کے دنوں میں ایمانی ترقی ہو اور ان کے دلوں میں خدا کے عطایا اس کی قدرتوں اور کرموں کے گن گانے کے جوش پیدا ہوں۔پس تم اس خیال کو کبھی بھی دل میں جگہ نہ دو کہ اکابر اور بڑے بڑے مالدار اور رؤساء عظام تمہارے ساتھ نہیں ہیں۔اگر تم ذلیل ہو تو تم سے پہلے بھی کئی گروہ تمہاری طرح کے ذلیل گزرے ہیں مگر آخر کار کامیابی کا تمغہ ایسے پاک اور مومن ذلیلوں ہی کو عطا کیا جایا کرتا ہے۔دیکھو موسی کے مقابلہ میں فرعون کیسا زبردست اور جبروت والا بادشاہ تھا مگر خدا نے اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا؟ فرمایا وَنُرِيدُ اَنْ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِيْنَ اسْتُضْعِفُوا فِي الْأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ (القصص) کس طرح سے ان ضعیف اور کمزور لوگوں کو اپنے احسان سے امام اور بادشاہ بنا دیا۔دیکھو یہ باتیں صرف کہنے ہی کی نہیں بلکہ عمل کرنے کی ہیں۔عمل کے اصول کے واسطے کہنے والے پر حسن ظن ہونا ضروری اور لازمی امر ہے۔اگر دل میں ہو کہ کہنے والا مرتد فاسق و فاجر ہے، منافق ہے تو پھر نصیحت سے فائدہ اٹھانا معلوم اور عمل کرنا ظاہر۔بعض اوقات شیطان اس طرح سے بھی حملہ کرتا ہے اور نصیحت سے فائدہ اٹھانے سے محروم کر دیتا ہے کہ دل میں نصیحت کرنے والے کے متعلق بدظنی پیدا کر دیتا ہے۔پس اس سے بچنے کے واسطے بھی وہی ہتھیار ہے جس کا نام دعا دردمند دل کی اور سچی تڑپ سے نکلی ہوئی دعا ہے۔عقائد صحیحہ کے ساتھ مال کا اتفاق بھی ضروری ہے۔خیرات کرنا، قریبوں، رشتہ داروں پر۔یتیم بچوں کو دینا۔مسکینوں اور مسافروں کو دینا۔سوالیوں کو اور غلام آزاد کرنے میں خرچ کرنا۔اعلاء کلمۃ اللہ کے